مصر: ڈاک ٹکٹ پر غلط تصویر شائع، عوامی حلقوں کی تنقید
مصرمیں نیشنل پوسٹل اتھارٹی کی جانب سے ڈاک ٹکٹ پر قدیم دور کے ایک مصری بادشاہ کی غلط تصویر شائع کرنے پر سوشل میڈیا اور عوام میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے اتھارٹی کے ذمہ داروں پر تاریخ سے نا بلند ہونے کا الزام عاید کرتے ہوئے ان کی توجہ اس غلطی کی جانب مبذول کرائی ہے تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی متنازع ڈاک ٹکٹ کی تصویر جاری کی ہے۔ ٹکٹ پر فراعنہ کے دور کے "اوزوریس" نامی بادشاہ کی شبیہ شائع کی گئی ہے جب کہ اس کے نیچے ایک دوسرے بادشاہ"حابی" الہ النیل کا نام درج ہے جب کہ حابی الہ النیل کی دستیاب شبیہ بالکل مختلف ہے۔
ڈاک ٹکٹ کی اشاعت میں ہونے والی اس فاش غلطی پر شہریوں نے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک کے ذریعے کڑی تنقید کی ہے اور انتظامیہ کو مصر کی تاریخ سے نابلد قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاک ٹکٹ پر شائع تصویر اور اس کے نیچے دیے گئے غلط نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوسٹل اتھارٹی کے ذمہ دارتاریخ سے بالکل واقف نہیں ہیں۔ انہیں 'اوزوریس' اور "حابی الہ النیل" کی شبیہ میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے اور پوسٹل اتھارٹی کے ذمہ داروں کواس کی فوری اصلاح کرنی چاہیے۔