.

شام میں امن کے لیے کسی بھی ملک سے بات کو تیار ہیں: روحانی

'بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ بعد میں طے ہوسکتا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہران شام کے بحران کے حل کے لیے کسی بھی علاقائی ملک یا عالمی طاقت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ بات چیت کو صدر بشارالاسد کی رخصتی کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدر حسن روحانی نے ان خیالات کا اظہار منگل کو تہران میں آسٹریا کے صدرھائنز فشرکے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری اولین ترجیح شام میں امن وامان کے قیام اور پناہ گزینوں کی اپنے گھروں کو واپسی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ بشارالاسد کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بعد میں حل کرلیا جائے گا۔

نیوز کانفرنس کے دوران جب صدر روحانی سے پوچھا گیا کہ آیا تہران شام کے معاملے پر سعودی عرب یا امریکا کے ساتھ بھی مذاکرات کی میز پربیٹھنے کوتیار ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ " ہم خطے کے کسی بھی ملک یا بیرونی ملک کے ساتھ شام کے بحران کے حل کے لیے مذاکرات کرنے کو تیارہیں"۔ انہوں نے کہا کہ شامی قوم قتل ہو رہی ہے، لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں، ہماری پہلی ترجیح بے گھر ہونے والوں کی واپسی، خون خرابے کا خاتمہ اور امن وامان کا قیام ہونی چاہیے۔ ملک کے سیاسی مستقبل میں بشارالاسد کے کردار کے تعین کا معاملہ بعد میں حل کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریا کے صدر کسی یورپی ملک کے پہلے سربراہ مملکت ہیں جو 10 سال بعد ایران کےدورے پرتہران پہنچے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے بھی شام کے سیاسی اور سیکیورٹی بحران کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر صدر حسن روحانی نے یورپی یونین میں شامل ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک پر زور دیا کہ وہ شام کے بحران کے حل کےلیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شام میں دیر پا امن قائم ہوجاتا ہے تو یہ خطے اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔