روس کا شامی تنازعے کے حل کے لیے امریکا سے مذاکرات پر زور
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے شام میں جاری بحران کے حل کے لیے روس اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ تنازعے کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ناگزیر ہے۔
وہ منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو میں اس سوال کا جواب دے رہے رہے تھے کہ کیا روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے امریکی ہم منصب براک اوباما کے درمیان شام پر مذاکرات ممکن ہیں؟
درایں اثناء روسی صدر نے کہا ہے کہ شامی حکومت کے ساتھ تعاون کیے بغیر دولت اسلامیہ عراق وشام( داعش) سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کو شکست نہیں دی جا سکتی ہے۔
تاجکستان میں سابق سوویت ریاستوں پر مشتمل سکیورٹی اتحاد کے اجلاس کے موقع پر انھوں نے کہا کہ روس نے صدر بشارالاسد کو فوجی امداد مہیا کی ہے اور وہ یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔
صدر پوتین نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ روس کی جانب سے بشارالاسد کی حمایت کی وجہ سے شامیوں کے ملک سے انخلاء میں اضافہ ہوا ہے اور وہ جوق درجوق مغربی ممالک کا رُخ کررہے ہیں۔روسی ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے بیان میں انھوں نے کہا کہ اگر روس اسد رجیم کی مدد نہیں کرتا تو یورپ جانے والے شامی مہاجرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی۔
امریکا اور روس کے درمیان حالیہ دنوں کے دوران شامی تنازعے پر ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور امریکا کا کہنا ہے کہ روس شام میں ایک فضائی اڈے پر اپنی فوجی قوت مجتمع کررہا ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فضائی کارروائیوں کے لیے ایک فوجی اڈا بنانے کی کوشش کررہا ہے۔تاہم ابھی تک اللاذقیہ کے نواح میں واقع اس فوجی اڈے سے کسی فوجی ہیلی کاپٹر یا لڑاکا طیارے کے اڑنے کی اطلاع نہیں ہے۔
پینٹاگان کے ترجمان نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ روس شام میں اپنے استعمال کے لیے ایک بڑا ہوائی اڈا بنا رہا ہے اور وہاں فوجی آلات اور فوجیوں کو بھیج رہا ہے۔امریکی حکام انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر یہ دعوے کررہے ہیں کہ روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فوجی اور جنگی سازوسامان بھیج رہا ہے۔دو امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ روس نے شام میں ایک فضائی اڈے پر نصف درجن ٹینک کھڑے کر دیے ہیں لیکن جنگ زدہ ملک میں بھاری فوجی سامان بھیجنے سے متعلق روس کےارادے واضح نہیں ہیں۔