.

روس کے ساتھ مل کر شام کی ہر ممکن مدد کریں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک اور #روس #شام کے تنازع پرایک صفحے پر ہیں اور دونوں مل کر شام کے بحران حل کے لیے ہرممکن مدد کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی نائب وزیرخارجہ حسین امیر عبدللھیان نے منگل کو #ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم روس کے ساتھ مل کر شام کو بحران سے نکالنے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہےہیں۔ دونوں ملک شام کے بحران کے خاتمے لیے مشترکہ مساعی جاری رکھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ صدر #بشار_الاسد شام کے مسئلے کے حل کا حصہ ہیں۔ بشار الاسد کو خارج کرکے کوئی بھی حل دیر پاء ثابت نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران شامی اپوزیشن کو بھی دیوار سے لگانے کی پالیسی پرعمل پیرا نہیں ہے۔ مذاکرات کے عمل میں اپوزیشن کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

حسین امیر عبداللھیان نے شام اور #یمن میں ایرانی فوجیوں اور عسکری مشیروں کی موجودگی کی خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یمن اور شام میں ایرانی افواج کی موجودگی سے متعلق جتنی خبریں آئی ہیں سب بے بنیاد ہیں۔ قبل ازیں "السوریہ ڈاٹ نیٹ" نے انکشاف کیا تھا کہ شام کے وسطی شہر حماۃ میں متمرکز شامی فوجیوں کے ساتھ ساتھ ایرانی فوجی افسران اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کے عناصر کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ تاہم ایرانی نائب وزیرخارجہ نے ان اطلاعات کو بنیاد قرار دیا۔

شام کے ملٹری انٹیلی جنس ادارے سے لیک ہونے والی ایک دستاویز میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حماۃ شہر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ #حماۃ میں #پاسداران_انقلاب کے اہلکار دو فارم ہائسز اور ایک دوسری بلڈنگ پرقابض ہیں۔ یہ عمارت اسد رجیم کو معلومات فراہم کرنے والے دو مخبروں کی ملکیت ہیں۔ اس جگہ بریگیڈ45 اور المغاویر بریگیڈ کے اہلکار بھی دیکھے گئے ہیں۔ یہ دونوں بریگیڈ ایرانی فوج کے بتائے جاتے ہیں۔