.

جرمن ہوائی اڈے سے جنگِ عظیم دوم کے زمانے کا بم برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے مغربی شہر ڈیوسلڈرف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے دوسری عالمی جنگ کے زمانے کا تین من سے زیادہ وزنی بم برآمد ہوا ہے جس کو ایک کنٹرول دھماکے سے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

ہوائی اڈے کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ یہ بم ایک سو پچیس کلو گرام وزنی تھا اور اس کو ناکارہ بنانے کی کارروائی کے دوران قریبا ایک گھنٹے تک پروازیں معطل رہی ہیں۔

ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ ڈیوسلڈرف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی دو پروازیں اور آنے والی پانچ پروازوں کا شیڈول معطل کیا گیا ہے اور چونتیس پروازوں کے وقت کو تحفظ کے نقطہ نظر سے آگے پیچھے کیا گیا ہے۔

اتوار اور سوموار کی درمیانی شب ہوائی اڈے کے مرکزی رن وے کے نزدیک سے تعمیراتی کام کے دوران یہ بم برآمد ہوا تھا اور اس کو آٹھ میٹر گہرے گڑھے میں ناکارہ بنایا گیا ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو۔

جرمن حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ڈیوسلڈرف کے ہوائی اڈے کی زمین کی تہ میں مزید بم بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اس ماہ کے دوران مزید کھدائی کا کام کیا جائے گا تاکہ دوسری عالمی جنگ کے زمانے کا دھماکا خیز مواد برآمد کرکے ناکارہ بنایا جا سکے۔ قبل ازیں سنہ 2009ء میں اسی جگہ کے قریب سے پانچ سو کلو گرام وزنی برآمد ہوا تھا اور اس کو دھماکے کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے سترسال کے بعد بھی جرمنی کے مختلف علاقوں سے اتحادی فوجوں کی جانب سے چلائے گئے بم برآمد ہورہے ہیں۔یہ بم اپنے اہداف یا کھلی جگہوں پر گرنے کے بعد پھٹ نہیں سکے تھے اورزمین میں دھنس گئے تھے۔ اب تعمیراتی کاموں کے دوران یہ بم گاہے گاہے برآمد ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے کسی قسم کے نقصان سے بچنے کے لیے متعلقہ علاقے کو لوگوں سے خالی کرانا پڑتا ہے۔