.

جی سی سی :مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ بیانات کی مذمت

اختتامی اعلامیے میں یمن کی تعمیرنو کے لیے عالمی کانفرنس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے لیڈروں نے مسلمانوں اور شامی مہاجرین کے خلاف نسل پرستی پر مبنی اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

سعودی دارالحکومت الریاض میں جی سی سی کے سربراہان کے دو روزہ اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''سپریم کونسل نے مہاجرین کے خلاف بالعموم اور مسلمانوں کے خلاف بالخصوص بڑھتی ہوئی جارحانہ ،نسل پرستانہ، اشتعال انگیز اور غیر انسانی بیان بازی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے''۔

خلیجی عرب ریاستوں نے یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے ہادی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان امن معاہدے کی صورت میں خانہ جنگی سے تباہ شدہ اس ملک کی تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی تعمیرنو کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

الریاض میں دو روزہ سربراہ اجلاس کے اختتام پر جی سی سی کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف بن راشد الزیانی نے یہ بیان پڑھ کر سنایا ہے اور یہ سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیا گیا ہے۔انھوں نے امریکا کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے کو روکنے سے متعلق بیان کا حوالہ دیا تھا۔

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ یمن کی تعمیر نو کے پروگرام پر اس کی معیشت کی بحالی کے عملی پروگرام کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ اس کی معیشت کی خلیجی ریاستوں کی معیشتوں میں انضمام کی راہ ہموار ہوسکے۔

واضح رہے کہ یمن کے متحارب فریقوں کے درمیان ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں آیندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں امن مذاکرات ہوں گے۔اس سے قبل یمنی حکومت نے عارضی جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنی تقریر میں کہا:''جی سی سی کی ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطے کو درپیش نامساعد حالات اور اس نازک گھڑی میں غیرملکی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد رہیں اور مل جل کر کام کریں''۔

انھوں نے کہا کہ ''خلیجی عرب ریاستیں یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی قیادت میں امن اور استحکام چاہتی ہیں۔ہم تنازعے کے پُرامن حل کی حمایت کریں گے تاکہ یمن بحران پر قابو پانے کے قابل ہوسکے اور ترقی کی جانب آگے بڑھ سکے''۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس میں سعودی عرب کے علاوہ بحرین ،کویت ،اومان ،متحدہ عرب امارات اور قطر کے فرمانرواؤں نے شرکت کی ہے اور اس میں علاقائی سلامتی سےمتعلق امور، شام میں جنگ،یمن میں خانہ جنگی اور اس کے خاتمے کے لیے امن کوششوں ،مہاجرین کے بحران اور مسلمانوں کے خلاف مغربی لیڈروں کے حالیہ بیانات کے حوالے سے غور کیا گیا ہے۔اختتام پر بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے اعلان کیا کہ آیندہ سال جی سی سی کا سربراہ اجلاس منامہ میں ہوگا۔