شامی حکومت اور اپوزیشن میں دمشق میں مذاکرات متوقع
روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اسی ماہ دمشق میں براہ راست مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔
روسی وزیر خارجہ نے سوموار کو قطری وزیرخارجہ خالد العطیہ کے ماسکو کے دورے کے موقع پر ان مذاکرات کی اطلاع دی ہے لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا شامی حزب اختلاف کے تمام دھڑوں نے دمشق میں اسد حکومت کے ساتھ ایک میز پر مل بیٹھنے سے اتفاق کیا ہے یا نہیں۔
روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کا ملک شام کے بارے میں دو جہت حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔اس کے لڑاکا طیارے خانہ جنگی کا شکار ملک میں بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں پر بمباری کررہے ہیں اور دوسری جانب روس شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن عمل میں بھی شریک ہے۔
اس سے قبل شامی بحران کے خاتمے کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات ہوئے تھے اور ان میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نظام الاوقات اور اس کے تحت جنوری میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست مذاکرات سےاتفاق کیا گیا تھا۔اس کے بعد سے امریکا اور روس متحارب دھڑوں کو براہ راست مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
واضح رہے کہ روس اور اس کے اتحادی ایران کا یہ اصرار رہا ہے کہ بشارالاسد کو صدارت پر فائز رہنا چاہیے اور انتقالِ اقتدار کے عمل میں انھیں کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ امریکا ، یورپی ممالک اور خلیجی عرب ریاستوں کا اصرار ہے کہ بشارالاسد کو بحران کے حل کے لیے فوری طور پر صدارت سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے ویانا اجلاس کے بعد کہا تھا کہ شام کو تنازعے میں سے ایک متحدہ سیکولر ریاست کے طور پر اُبھرنا چاہیے۔تاہم ان کے درمیان شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔