ترکی یا کرد، امریکا اتحادی چن لے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ترک صدر رجب #طیب_ایردوآن کا کہنا ہے کہ #واشنگٹن کو #ترکی اور #کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ کس کو اپنے اتحادی کے طور پر چنے گا۔

ترک صدر کی جانب سے یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب امریکی صدر #براک)اوباما کے ایک نمائندے نے شمالی #شام میں شامی کرد فورسز کے زیر انتظام ایک قصبے 'عین العرب' کا دورہ کیا ہے۔ ترکی کرد فورسز کو کالعدم کردستان ورکز پارٹی کے ساتھ تعلقات کی بناء پر دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

ایردوآن کا کہنا تھا "ہم آپ پر اعتماد کیسے کرسکتے ہیں؟ کیا میں آپ کا اتحادی ہوں یا عین العرب میں بیٹھے ہوئے دہشت گرد؟" ادھر واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے امریکی پالیسی بیان کو دہراتے ہوئے بتایا کہ کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا "ہم پی کے کے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی تشدد کی مہم کو فوری طور پر ختم کرے۔ ایک سیاسی حل کی تلاش میں مذاکرات کی بحالی ہی تمام شہریوں کو سول حقوق کی فراہمی، سیکیورٹی اور خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کو یقینی بنا سکے گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں