ترکی یا کرد، امریکا اتحادی چن لے: ایردوآن
ترک صدر رجب #طیب_ایردوآن کا کہنا ہے کہ #واشنگٹن کو #ترکی اور #کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ کس کو اپنے اتحادی کے طور پر چنے گا۔
ترک صدر کی جانب سے یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب امریکی صدر #براک)اوباما کے ایک نمائندے نے شمالی #شام میں شامی کرد فورسز کے زیر انتظام ایک قصبے 'عین العرب' کا دورہ کیا ہے۔ ترکی کرد فورسز کو کالعدم کردستان ورکز پارٹی کے ساتھ تعلقات کی بناء پر دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔
ایردوآن کا کہنا تھا "ہم آپ پر اعتماد کیسے کرسکتے ہیں؟ کیا میں آپ کا اتحادی ہوں یا عین العرب میں بیٹھے ہوئے دہشت گرد؟" ادھر واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے امریکی پالیسی بیان کو دہراتے ہوئے بتایا کہ کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا "ہم پی کے کے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی تشدد کی مہم کو فوری طور پر ختم کرے۔ ایک سیاسی حل کی تلاش میں مذاکرات کی بحالی ہی تمام شہریوں کو سول حقوق کی فراہمی، سیکیورٹی اور خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کو یقینی بنا سکے گی۔"
-
روس، بشارالاسد 4 لاکھ شامیوں کے قاتل ہیں: ایردوآن
"انقرہ کی شام میں مداخلت کا روسی بیان مضحکہ خیز ہے"
بين الاقوامى -
روس کا شام سے متعلق دعویٰ مضحکہ خیز ہے: ایردوآن
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے روس کی جانب سے شام میں ترک حملے کی تیاریوں کے الزام پر ...
بين الاقوامى -
داعش حملہ: عراق نے ایردوآن کے دعوے کی تردید کردی
عراق کی 'جوائنٹ آُپریشنز کمانڈ' نے ترک صدر طیب ایردوآن کی جانب سے عراق کے شمالی ...
مشرق وسطی -
ہنگامی حالت میں شامی پناہ گزینوں کے لیے سرحد کھول دیں گے:ایردوآن
70 ہزار پناہ گزین ترکی جانب رواں دواں ہیں:ترک عہدیدار
بين الاقوامى -
3000ترکمانی شام سے ترکی ہجرت پر مجبور
ترکی میں ہنگامی حالات اور آفات سے متعلق ایجنسی (أفاد) نے بتایا ہے کہ شام کے صوبے ...
بين الاقوامى -
ترک صدر کا مشرقِ وسطیٰ میں فرقہ وارانہ تقسیم پر انتباہ
ترکی کےایران کے ساتھ اختلافات ہیں،مگر ہم تعلقات میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہتے
مشرق وسطی