شام میں مجموعی طور پر سیزفائر جاری ہے : بین کی مون
ترکی کی جانب سے سرحد پار حملوں سے جنگ بندی ختم ہوسکتی ہے: روس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ شام میں لڑائی کے واقعات کے باوجود مجموعی طور پر جنگ بندی پر عمل کیا جارہا ہے جبکہ روس نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے شامی علاقے میں حملوں سے جنگ بندی ختم ہوسکتی ہے۔
بین کی مون نے سوموار کے روز جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اس وقت میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ بعض واقعات کے باوجود مجموعی طور پر جنگی کارروائیاں رُکی ہوئی ہیں''۔
درایں اثناء اقوام متحدہ کے تحت شام ٹاسک فورس اپنے اجلاس میں خانہ جنگی کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔ٹاسک فورس اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بڑھنے نہ پائے۔
امریکا اور روس کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں طے شدہ جنگ بندی شام میں آج تیسرے روز بھی جاری ہے جبکہ اس دوران شامی حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی جانب سے اس کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس منظرعام پر آئی ہیں۔
اس جنگ بندی کا اطلاق داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ پر نہیں ہوتا اور ان کے ٹھکانوں پر روس اور شامی فوج کے لڑاکا طیاروں کی بمباری کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ شامی حزب اختلاف نے روس پر اعتدال پسند باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کا الزام عاید کیا ہے۔
درایں اثناء روس کے نائب وزیر دفاع سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو شام کی سرحد کے ساتھ ترکی کی فوجی تیاریوں پر تشویش لاحق ہے اور انقرہ کی جانب سے شام میں مسلح مداخلت سے جنگ بندی کے منصوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
ریابکوف نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''بدقسمتی سے ہمارے ترک ساتھی سرحدپار حملوں کے آئیڈیا سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں''۔ان کا کہنا ہے کہ شام میں اگر وفاق کا ماڈل کام کرتا ہے تو وہ ایک وفاقی ریاست بن سکتا ہے۔
دوسری جانب معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے شام میں روس کی فوجی تیاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کویت میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''نیٹو اتحاد کو شام میں روس کی فوجی مہم جوئی پر تشویش لاحق ہے۔ہم نے شام میں روس کے زمینی دستے دیکھے ہیں ، بحر متوسط کے مشرق میں اس کی بحری فورسز موجود ہیں اور روسی فضائیہ حملے کررہی ہے''۔