انقرہ میں خودکش کار بم دھماکا ،37 افراد ہلاک
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں خودکش کار بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سینتیس ہوگئی ہے اور ایک سو بیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ان میں پندرہ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
صوبہ انقرہ کے گورنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خودکش بم دھماکا شہر کے مصروف وسطی علاقے كيزيلائی میں واقع ایک پارک کے نزدیک بس اسٹاپ پر ہوا ہے۔بیان میں ستائیس ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی ہے۔
ترکی کے این ٹی وی ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق ایک کار ایک بس سے جا ٹکرائی جس سے زوردار دھماکا ہوا ہے۔اس سے لگتا ہے کہ بم کار میں نصب تھا۔دھماکے سے وہاں کھڑی متعدد گاڑیوں کو آگ لگ گئی ہے۔
واقعے کے فوری بعد ترک سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔پولیس اہلکاروں نے وہاں موجود لوگوں اور صحافیوں کو ہٹا دیا اور خبردار کیا ہے کہ ایک اور دھماکا ہوسکتا ہے۔مہلوکین کی لاشیں اور زخمیوں کو شہر کے دس اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔حکام کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔انقرہ میں اس بم دھماکے سے تین ہفتے کی قبل ہی فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے کو خودکش بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا اور اس دھماکے میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں آزادی کے نام سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ ایک کرد جنگجو گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔