انقرہ میں کاربم حملہ کرنے والے کرد مرد اور عورت کی شناخت
دونوں بمباروں کو شام میں کرد ملیشیا وائی پی جی نے تربیت دی تھی: وزارت داخلہ
ترکی کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ انقرہ میں خودکش بم دھماکا کرنے والی چوبیس سالہ حملہ آور شاگلہ دیمیر کا تعلق کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تھا اور اس کو شام میں کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) نے تربیت دی تھی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ''اس خودکش بمبار عورت نے 2013ء میں پی کے کے میں شمولیت اختیار کی تھی۔انقرہ میں بم دھماکے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہے''۔
اس خودکش بم حملے کے مرکزی کردار کی شناخت عبدالباقی ثمر کے نام سے کی گئی ہے۔اس کا تعلق کردستان فریڈم فالکن (ٹی اے کے) نامی کرد باغی گروپ سے تھا۔وہ شام میں وائی پی جی کی صفوں میں شامل ہوکر لڑتا رہا تھا۔وہ ایک شامی مہاجر صالح نجار کے نام سے ترکی میں داخل ہوا تھا۔
اتوار کی شب انقرہ کے وسطی علاقے میں واقع ایک مصروف بس اسٹاپ پر بارود سے بھری ایک گاڑی کو دومسافر بسوں کے درمیان دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔اس کے نتیجے میں سینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ستر سے زیادہ اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔بم دھماکے سے متعدد گاڑیاں اور بسیں مکمل طور پر جل گئی تھیں۔
ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں پینتیس شہری مارے گئے ہیں۔دو باقی لاشوں میں ایک دہشت گرد کی ہے اور ایک اس کے ساتھی کی ہے۔
انقرہ میں خودکش کار بم دھماکے کے بعد ترک فضائیہ نے شمالی عراق میں سوموار کے روز کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی اور نو ایف 16 اور دو ایف 4 جیٹ طیاروں نے کرد باغیوں کے عراق کے شمال میں واقع قندیل کی پہاڑیوں سمیت اٹھارہ ٹھکانوں پر حملے کیے تھی اور ان میں اسلحہ ڈپوؤں ،بنکروں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ترک پولیس نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے استنبول سمیت مختلف شہروں میں چھاپا مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس نے پچاس سے زیادہ مشتبہ کرد باغیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
ترک دارالحکومت میں گذشتہ ایک ماہ کے عرصے میں یہ دوسرا خودکش بم دھماکا تھا۔17 فروری کو ایک کار میں سوار خودکش بمبار نے فوجیوں کی بسوں کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں آزادی کے نام پر سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ ایک کرد جنگجو گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ترکی میں جولائی 2015ء کے بعد خودکش بم دھماکوں میں قریباً دو سو دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان حملوں کا کرد باغیوں یا پھر عراق اور شام میں برسرپیکار داعش کے جنگجوؤں پر الزام عاید کیا گیا ہے۔