.

روسی ماہرین کو بلیک باکس کا ڈیٹا پڑھنے میں دشواری کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی تحقیقات کاروں نے کہا ہے کہ انھیں ملک کے جنوب میں ہفتے کے روز گر کر تباہ ہونے والے دبئی کے مسافر طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز کے ڈیٹا کو پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہے اور وہ فوری طور اس کا جائزہ نہیں لے سکتے ہیں۔

حادثے کی تحقیقات کرنے والی بین الریاستی ایوی ایشن کمیٹی کے ڈپٹی چئیرمین سرگئی زائیکو نے روسی ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ تباہ شدہ طیارے کے بلیک باکسز کو زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے اور ماہرین فوری طور پر ان کا ڈیٹا پڑھ نہیں سکے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ماہرین نے ڈیٹا ریکارڈر سے ڈیٹا کاپی کر لیا ہے اور ابھی انھوں نے آواز ریکارڈر کا ڈیٹا کاپی کرنا ہے۔جب یہ کام ہوجائے گا تو پھر ماہرین دیکھیں گے کہ کیا وہ وہاں سے ڈیٹا اخذ کرسکتے ہیں۔

دبئی کی ملکیتی فضائی کمپنی کابوئنگ مسافر طیارہ روس کے دارالحکومت ماسکو سے 950 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر روستوف آن ڈان کے ہوائی اڈے پر ہفتے کی صبح اترتے ہوئے گر کر تباہ ہوگیا تھا۔اس افسوس ناک حادثے میں چار بچوں سمیت باسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

روسی حکام کے مطابق طیارے کے پائیلٹ نے ہوائی اڈے پر دوبار اترنے کی کوشش کی تھی۔دوسری کوشش کے دوران وہ رن وے سے تھوڑا دور گر کر تباہ ہوگیا تھا اور اس کو زمین پر گرتے ہی آگ لگ گئی تھی۔ روس کی تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ ہوا بازوں یا فنی خرابی کے حادثے میں امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔اس کے بہ قول زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ طیارہ ہوابازوں کی غلطی یا فنی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا تھا۔

فلائی دبئی کے اس مسافر طیارے کے ہوابازوں اور ائیر کنٹرول روم کے درمیان گفتگو کی تفصیل بھی گذشتہ روز منظر عام پر آئی ہے۔اس گفتگو میں پائیلٹ موسم کی صورت حال کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔انھوں نے موسمی صورت حال پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔سات منٹ کی اس ریکارڈنگ میں ایک پائیلٹ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ کیا موسم بہتر ہے؟اس وقت وہ روستوف آن ڈان کے ہوائی اڈے پر اُترنے کے لیے قریب پہنچ چکے تھے۔