.

میرے لوگوں کو آزاد کردو: فلسطینی سفیر کی سلامتی کونسل میں دھائی

اسرائیل۔ فلسطینی سفراء کا سلامتی کونسل میں جھگڑا، الزامات کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں فلسطین اور اسرائیل کے سفراء کے درمیان تکرار کا اچھوتا بیان سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی واضح نظر آتی ہے۔

اسرائیلی سفیر ڈینی ڈانون نے اس گرم بحث کا آغاز کیا جب وہ سلامتی کونسل اپنی تقریر کا اختتام کررہے تھے۔ انہوں نے فلسطینی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "کیا آپ اسرائیلیوں پر دہشت گرد حملے کرنے والے فلسطینیوں کی مذمت کرتے ہیں؟"

فلسطینی سفیر ریاض منصور نے جوابا کہا کہ "ہم فلسطینی شہریوں سمیت تمام معصوم شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہیں۔ کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟"

اس کے بعد ڈانون نے فلسطینیوں پر الزام لگایا کہ وہ اپنے سکولوں میں نفرت کی تعلیم دیتے ہیں اور اپنی سڑکوں کو دہشت گردوں سے منسوب کرتے ہیں اور ان اقدامات کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے چلاتے ہوئے فلسطینی سفیر کو کہا "آپ دہشت گردوں کے خاندانوں کو پیسے دیتے ہیں۔ آپ دہشت گردی کو جلال بخشتے ہیں۔ آپ کو ایسا کرتے شرم آنی چاہئیے ہے۔" اس پر منصور نے جوابا کہا کہ "ہم ایسا نہیں کرتے ہیں۔"

ڈانون نے اس کے جواب میں ایک بار پھر کہا "دہشت گردی کی حمایت پر آپ کو شرم آنی چاہئیے ہے۔" جس کے جواب میں منصور کا کہنا تھا "آپ کو ہزاروں فلسطینی بچوں کے قتل پر شرم آنی چاہئیے ہے۔"

اس گرما گرم بحث کے دوران اجلاس کی سربراہی کرنے والے چین کےاقوام متحدہ میں سفیر لیو جیھی نے اجلاس کی کارروائی میں ربط لانے کے لئے میز پر ہتھوڑا مارا اور اسرائیلی سفیر سے اپنا بیان مکمل کرنے کو کہا۔

مگر ڈانون نے اس انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ "آپ دہشت گردی کی مذمت نہیں کرسکتے ہیں۔ آپ یہاں پر نہیں کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو شرم آںی چاہئیے ہے۔"

منصور نے اپنا مائیک کھولے جانے کے بعد جواب دیا کہ "میرے لوگوں کو آزاد کردو۔ تم لوگ قابض ہو۔ تم آبادکار ہو۔ ہمیں اکیلا چھوڑ دو۔"