.

داعش تنظیم ۔۔۔ 95 % شریعت سے ناواقف، 90 % کو جہاد کا تجربہ نہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ماہ "داعش" تنظیم کے ایک منحرف رکن کی جانب سے افشا کیے جانے والے " تنظیمی دستاویزات" کے ذریعے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق 2013 اور 2014 کے دوران داعش تنظیم میں سب سے زیادہ سعودی باشندوں نے شمولیت اختیار کی جن کی تعداد 579 رہی۔ ان کے بعد (559) تیونسی، (240) مراکشی اور (151) مصری باشندوں کی تعداد نمایاں رہی۔ یہ بات نیویارک میں امریکی فوجی اکیڈمی کے زیرانتظام 2003ء میں قائم ہونے والے انسداد دہشت گردی کے مرکز Combating Terrorism Center کی جانب سے تیار کی گئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ یہ مرکز انتہا پسندی کے بارے میں تجزیاتی تحقیق کے سلسلے میں سرگرم ہے۔

اسی عرصے کے دوران داعش میں شامل ہونے والے سب سے زیادہ غیرعرب باشندے ترکی کے تھے جن کی تعداد 212 رہی۔ اس کے بعد (141) روسی، (49) فرانسیسی، (38) جرمن اور (26) برطانوی تھے۔ واضح رہے کہ 70 ملکوں کے رضاکاروں پر مشتمل اس فہرست میں کوئی بھی امریکی شہری شامل نہیں ہے۔

2013 اور 2014 کے دوران داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے زیادہ تر نوجوانوں کی عمر 26 سے 27 برس کے درمیان تھی۔ مزید برآں پانچ بیٹوں کا ایک 70 سالہ باپ بھی جنجگو بننے کی امید پر شدت پسند تنظیم سے آ ملا۔ تنظیم میں 400 کم سن لڑکوں نے بھی شمولیت اختیار کی جن میں سب سے بڑے لڑکے کی عمر 15 برس تھی۔ ان کے علاوہ 40 بچے بھی داعش کے چنگل میں پھنسے۔

شادی شدی، کنوارے اور طلاق یافتہ

اس جیسی اور بہت سی معلومات ان دستاویزات میں سامنے آئی ہیں جو "داعش" تنظیم کے ایک منحرف رکن کے ذریعے تقریبا دو ماہ قبل ذرائع ابلاغ کی زینت بنے جن میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" بھی شامل ہے۔ دستاویزات میں شام اور عراق میں موجود "داعش" تنظیم کے جنگجوؤں میں سے تقریبا 20 ہزار افراد کے نام اور ان کی قومیت شامل تھی۔ بعد ازاں Combating Terrorism Center نے ان دستاویزات کا باریک بینی کے ساتھ تجزیہ کیا۔

انسداد دہشت گردی کے مذکورہ مرکز کی جانب سے جاری رپورٹ میں 2013-14 کے دوران شام اور عراق میں داعش کی صفوں میں شامل ہونے والے 4600 سے زیادہ افراد کے کوائف کا تجزیہ کیا گیا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے اس وسیع تجزیے کی جان کاری مرکز کی اپنی ویب سائٹ سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ عالمی ذرائع ابلاغ میں اس سے متعلق خلاصوں کو بھی دیکھا گیا جن میں برطانوی اخبار "ٹائمز" بھی شامل ہے۔ اخبار کے مطابق اس عرصے کے دوران تنظیم سے جڑنے والوں میں 61 % غیرشادی شدہ اور 30 % شادی شدہ ہیں۔ ان کے علاوہ 6 طلاق یافتہ مرد بھی تھے جن میں بعض ایک یا اس سے زیادہ بچوں کے باپ بھی ہیں۔

جہاں تک تعلیمی قابلیت کا تعلق ہے تو 30% انٹرمیڈیٹ سرٹفکیٹ رکھتے ہیں اور 22 % اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ ان میں سے اکثر افراد ماضی میں مستحکم ملازمتوں کے حامل تھے۔ بعض لوگ ورکرز، کاروباری یا ٹھیکے دار تھے جب کہ دیگر لوگوں میں انجینئر، ڈاکٹر اور تیکنیکی مہارت رکھنے والے شامل ہیں۔

دنیا دہشت گردی میں ڈوبی ہوئی ہے

رپورٹ کے مطابق ان رضاکاروں میں سے 90 % کے پاس "جہاد" کا سابقہ تجربہ نہیں تھا اور صرف 10 % ایسے تھے جو جہادی ماضی میں جہادی رہ چکے ہیں۔ یہ لوگ شام، لیبیا اور افغانستان میں لڑائی میں شرکت کر چکے ہیں۔

جہاں تک اسلامی شریعت کے بارے میں جان کاری کا تعلق ہے تو رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ داعش سے منسلک ہونے والے صرف 5% رضاکار اس بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ اس کے مقابل 70% اسلامی شریعت اور اس کی تفصیلات سے غیرمانوس تھے۔ اس کے علاوہ 12% کا کہنا تھا کہ وہ خودکش حملوں کے لیے تیار ہیں جب کہ ان میں 89% نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ لڑائی میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔

اس وقت ساری دنیا "ٹائی ٹینک" جہاز کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ دہشت گردی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ 1972ء میں اقوام متحدہ کے زیرانتظام قائم ہونے والی انسداد دہشت گردی کی خصوصی باڈی "کاؤنٹر ٹیررزم کمیٹی" کی رپورٹوں کے خلاصے کے مطابق 1960ء سے اب تک دنیا بھر میں 2500 نظریاتی اور مذہبی شدت پسند تنظیمیں قائم ہوئیں۔ ان میں 60 ملکوں میں 390 دہشت گرد تنظیمیں شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ 40 تنظیمیں ایسی ہیں جو دہشت گرد تحریکوں کے ذیلی عناصر کو سپورٹ کرتی ہیں۔ ان میں اکیلے یورپ میں ہی 116 تنظیمیں ہیں۔ صرف 1995ء کے دوران ہی 91 ملکوں میں "دہشت گردی" کے واقعات رونما ہوئے جب کہ 2015ء میں دنیا کے 72 ممالک پر دہشت گردی نے کاری وار کیا۔