.

العربیہ کی ٹیم کا جزیرہ تیران کا مطالعاتی دورہ

جزیرے کی سعودی عرب حوالگی کے بعد سیاحوں کا رش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکومت کی جانب سے جزیرہ تیران اور صنافیر سعودی عرب کو واپس کیے جانے کے بعد جزائر میں مقامی شہریوں، عرب باشندوں اورغیرملکی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں العربیہ ڈاٹ نیٹ کی کیمرہ ٹیم نے بھی جزیرہ تیران کا مطالعاتی دورہ کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب سے قاہرہ حکومت نے جزیرے سعودی عرب کے حوالے کیے ہیں اس کے بعد سے دونوں جزیروں بالخصوص تیران میں سیاحوں کی غیرمعمولی آمد و رفت شروع ہوچکی ہے۔ ہفتے کے ساتوں دن سیاحوں کے قافلے تیران پہنچ رہے ہیں اور یہ علاقہ سیاحوں کی توجہ کا ایک نیا مرکز بن چکا ہے۔

جزیرہ تیران اپنے قدرتی حسن وجمال کی بدولت سیاحوں کا توجہ کا پہلے بھی مرکز رہا ہے جب سعودی عرب حوالگی کے بعد اس کی سیاحت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ یوں یہ چھوٹا جزیرہ سیاحوں کی جنت قرار دیا جا رہا ہے جہاں دن رات سیرو سیاحت کے دلدادہ لوگوں کا رش لگا رہتا ہے۔

یکم اپریل کے بعد روزانہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے سے قاہرہ سے 500 کلومیٹر کی دوری پر واقع شرم الشیخ کے علاقے مارینا میں سیکڑوں سیاح جزیرہ تیران کی سیاحت کے لیے اپنی رجسٹریشن کراتے ہیں۔ یہ پورا علاقہ سرسبز وشاداب باغات، کیفیٹیریا، ریستورانوں، شاپنگ مراکز، پیراکی کے مقامات سے بھرا پڑا ہے جہاں مردو خواتین قطاروں میں کھڑے تیران جانے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ مارینا اسٹیشن پر پولیس کی جانب سے سیاحوں کے شناختی کارڈز اور دیگر دیستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں ایک کشتی پر سوار کیا جاتا ہے جہاں سے وہ جزیرہ تیران کا سفر کرتے ہیں۔

جزیرہ تیران کی جانب سفر بھی نہایت دلفریت قدرتی نظاروں سے بھرپور ہوتا ہے جہاں زیرسمندر مونگوں اور جل پریوں کی کوشش سیاحوں کو مبہوت کیے رکھتی ہے۔ جزیرے پراترنے سے کوئی آدھ کلو میٹر قبل کشتیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی وارننگ دی جاتی ہے۔ غوطہ خوری کے شوقین پانی کی گہرائیوں کی بھی سیر کرتے ہیں۔

جزیرے پر عالمی امن فوج کے چند اہلکاروں اور ایک آدھ ہیلی کاپٹرکے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ سیاحوں کو جزیرے کے اندر تک جانے کی اجازت نہیں تاہم وہ اس کے کناروں پر کھڑ ے ہو تصاویر بنا سکتے ہیں۔ جزیرے کی ان گنت تصاویر میں ایک یادگار تصویر سنہ 1981ء میں وہاں پر تباہ ہونے والے ایک بحری جہاز کی بھی ہے۔

سمندر میں رنگ بہ رنگی مچھلیاں اپنی پھرتیلی تیزی کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں پر براکودا مچھلیوں کے علاوہ ڈولفن بھی پائی جاتی ہیں۔ سمندری سیاحت کی مانیٹرنگ کے مقامی انچارج سعید محمد سعید نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ جزیرہ تیران کے قرب وجوار میں کئی دوسرے چھوٹے جزیرے بھی واقع ہیں۔ جتنے وقت میں شرم الشیخ سے تیران میں پہنچا جا سکتا ہےاس سے کم وقت میں یہاں سے دوسرے جزائر تک پہنچنا آسان ہے۔ ایک سال قبل تک جزیرہ تیران اور دوسرے تمام جزیروں کے اندر تک جانے اور سیاحت کی اجازت تھی مگر اب سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرسیاحوں کو ایک مخصوص مقام تک جانے دیا جاتا ہے۔

مصرمیں تاریخی مقامات پر اسٹڈی کے لیے قائم کردہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان نے بتایا کہ جزیرہ تیران کا کل رقبہ 80 کلومیٹر ہے جو شرم الشیخ سے 6.5 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ پرانے زمانے میں اس جزیرے کو "ایتاب" کا نام دیا جاتا تھا اور بازنطینی دور میں بھی ہندوستان کی طرف جانےوالے سمندری قافلوں کی اہم گذرگاہ قرار دیا جاتا یہاں بازنطینی دور کے کسٹم حکام سمندری قافلوں سے ٹیکس وصول کرتے۔

اہل مصر نےاس جزیرے کا نام ‘تیران‘ کیوں رکھا، اس کے حوالے سے کئی قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس کا منبع ’’تیر‘‘ یعنی سمندری لہروں سے ہے۔ بعض مورخین اور اہل لغت کا خیال ہے کہ جزیرہ تیران رومن دور میں ہونے والی الثیران نامی جنگ کا مرکز رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس جزیرے کو اسی جنگ سے موسوم کیا گیا۔ بعد ازاں الثیران کو تیران کردیا گیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس نام کی اصل وجہ تسمیہ تاحال پردہ راز میں ہے۔