.

روحانی کے مقرب آرمی چیف کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلح افواج کے سربراہ کو تبدیل کرکے صدر حسن روحانی کا فوج پر اثر انداز ہونے کا دروازہ بند کردیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے صدر حسن روحانی کے قریب سمجھے جانے والے آرمی چیف جنرل حسن فیروز آبادی کو ان کے عہدے سے سبکدوش کرتے ہوئے ان کی جگہ اپنے ایک من پسند جنرل کو آرمی چیف کا عہدہ سونپا ہے تاکہ وہ سپریم لیڈر کے احکامات کا نفاذ کرسکیں۔

ایران کی گارڈین کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی کے مقرب نیوز ویب پورٹل "تابناک" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنرل فیروز آبادی کوعالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی حمایت اور صدر حسن روحانی کے موقف کی تائید کی پاداش میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ نیز حسن روحانی ایران کےفوجی اداروں میں اپنی پالیسیاں نافذ کرنے اور اندرون اور بیرون ملک اثرانداز ہونے کے لیے جنرل فیروز آبادی کواستعمال کررہے تھے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل فیروز آبادی کو آرمی چیف کے عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ ملک کے بعض علاقوں بالخصوص کردستان اور بلوچستان صوبوں میں جاری شور کا اہم کردار ہے۔ سپریم لیڈر عسکری گروپوں سے آہنی ہاتھوں نمٹنے میں سستی کرنے پر جنرل فیروز آبادی سے ناراض تھے۔ تاہم بیشتر ذرائع یہ بتاتے ہیں جنرل فیروز آبادی کو صدر حسن روحانی کی قربت کی سزا دی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے گذشتہ برس ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ طے پانے کے بعد جنرل فیروز آبادی نے ایک تہنیتی پیغام سپریم لیڈر کو بھی ارسال کیا تھا جس پر مرشد اعلیٰ سخت برہم ہوئے تھے۔

تابناک کی رپورٹ کے مطابق مرشد اعلیٰ کا خیال ہے کہ جنرل فیروز آبادی روح انقلاب سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ادھر ایران میں اصلاح پسندوں کے مقرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سبکدوش آرمی چیف جنرل فیروز آبادی کے صدر حسن روحانی کے ساتھ قریبی تعلقات قائم تھے۔ وہ صدر حسن روحانی کی پالیسیوں کو فوج میں رواج دینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سابق صدر اور گارڈین کونسل کے چیئرمین اکبر ہاشمی رفسنجانی کے احکامات پربھی عمل کرتے دکھائی دیتے تھے۔

خاص طور پر جنرل فیروز آبادی کی جانب سے حسن روحانی اور اکبر ہاشمی کے ساتھ قربت گذشتہ فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد اور بھی بڑھ گئی تھی کیونکہ ان انتخابات میں اصلاح پسندوں کی اکثریت کے ساتھ کامیابی نے ان دونوں اہم شخصیات کو مزید مضبوط بنا دیا تھا۔