ترکی سے فرار ہونے والے 8 باغی فوجیوں کا یونان میں ٹرائل

یونان میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں مقدمہ ،ترکی کا باغی فوجیوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک یونان فرار ہوجانے والے آٹھ فوجیوں کے خلاف جمعرات کو مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ان کے خلاف یونان میں غیر قانونی داخلے کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

وہ گذشتہ ہفتے کے روز فوجی ہیلی کاپٹر پر یونان کے شمالی شہر الیگزینڈرو پولس پہنچے تھے اور انھیں خطرناک صورت حال سے دوچار ہونے کے اشارے دینے پریونانی حکام نے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت دی گئی تھی۔اب ان کے خلاف اسی شہر میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اگر وہ قصور وار قرار پائے جاتے ہیں تو انھیں پانچ پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

ان کے ایک وکیل ایلیا میناکی کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں میں دو کمانڈر ،چارکپتان اور دو سارجنٹ ہیں۔انھیں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد اپنی اور اپنے خاندان والوں کی جانوں کا خطرہ لاحق تھا۔انھوں نے اپنی ترکی بے دخلی کو روکنے کے لیے یونان میں سیاسی پناہ کی درخواست بھی دے رکھی ہے۔

یونانی حکام ان کی درخواست پر اگست کے اوائل میں غور کریں گے اور اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب ترک حکام کا کہنا ہے کہ اگرانھیں ترکی واپس بھیجا جاتا ہے تو ان کے خلاف منصفانہ انداز میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

ایتھنز میں متعیّن ترک سفیر کریم عرس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان افسروں کو ترکی کے حوالے نہیں کیا جاتا تو اس سے دوطرفہ تعلقات کی بہتری میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔انھوں نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے امید ہے،ہم مقررہ طریق کار کے تمام مراحل کو تیزی سے طے کرلیں گے اور ان دہشت گرد عناصر کی واپسی کا انتظام کر لیں گے تا کہ وہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوسکیں''۔

واضح رہے کہ ترکی اور یونان کے درمیان تاریخی مخاصمت پائی جاتی ہے۔دونوں ملک 1952ء میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن بنے تھے۔حالیہ برسوں کے دوران ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔البتہ فضائی حدود اور بحری سرحدوں کے تنازعات کی وجہ سے ان میں کشیدگی بدستور موجود ہے۔

یونان نے گذشتہ سال ترکی کو ہزاروں شامی مہاجرین سمیت تارکین وطن کو اپنی بحری حدود سے یونان کے ساحلی علاقوں کی جانب پہنچنے کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔اس سال مارچ میں ترکی کا یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے یورپی یونین سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ابھی اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں