امریکا کی ایران کو 40 کروڑ ڈالرز تاوان کے طور پردینے کی تردید
امریکا کی اوباما انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ پانچ امریکیوں کی رہائی کے بعد ایران کو ادا کردہ چالیس کروڑ ڈالرز کی نقد رقم تاوان نہیں تھی۔ری پبلکن پارٹی کے بعض عہدے داروں نے اوباما انتظامیہ پر یہ الزام عاید کیا ہے کہ اس نے یہ رقم ایران کو پانچ امریکیوں کی رہائی کے بدلے میں تاوان کے طور پر ادا کی تھی۔
ایوان نمائندگان کی سرکاری اصلاحات کمیٹی کے ری پبلکن چیئرمین جیسن شافز نے بدھ کے روز وزیر خارجہ جان کیری کو ایک خط بھیجا تھا جس میں ان سے کہا تھا کہ وہ کمیٹی کے آیندہ اجلاس میں پیش ہوں تاکہ ایران کو رقوم کی ادائی کے اس معاملے پر گفتگو کی جاسکے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ ایران کو تاوان یا خفیہ طور پر یہ رقم ادا کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ ''صدر اوباما کی قیادت میں امریکا نے ایران میں غیر منصفانہ طور پر پکڑے گئے امریکیوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کیا ہے اور ہم تاوان ادا کرنے والے نہیں ہیں''۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق واشنگٹن نے خفیہ طور پر ایران کو یہ رقم منتقل کی تھی۔جوش ایرنسٹ نے اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ری پبلکنز ایران کو ادا کردہ رقوم کو جوہری معاہدے کو نقصان پہنچانے کےلیے استعمال کررہے ہیں اور اس کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی مخالفت کے لیے ایک جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ایران کو سود کی مد میں ادا کیے گئے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز امریکی انتظامیہ کے زیر انتظام ججمنٹ فنڈ کے ذریعے ادا کیے گئے تھے۔اس فنڈ سے امریکا کے ذمے واجب الادا رقوم ادا کی جاتی ہیں۔
ایران سے رہا کرائے گئے امریکیوں میں میں واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹر جیسن رضیان بھی شامل تھیں۔انھیں 16 جنوری کو امریکا میں پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں قید سات ایرانیوں کے بدلے میں رہا کیا گیا تھا۔ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے بعد قیدیوں کا یہ تبادلہ ہوا تھا۔گذشتہ سال جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عاید بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ ہوا تھا۔
اس موقع پر امریکا نے ایران کے ساتھ ہیگ میں قائم ایران، امریکا ٹرائبیونل میں دائر ایک دعوے کے تصفیے کا اعلان کیا تھا۔اس کے تحت امریکا نے ایران کے 1980ء سے منجمد چالیس کروڑ ڈالرز اثاثے اور ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز سود کی مد میں ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ رقوم ایران کے ایک ٹرسٹ فنڈ سے متعلق تھیں۔اس کے ذریعے ہی ایران 1979ء کے انقلاب سے قبل امریکا سے فوجی آلات اور سازوسامان خرید کیا کرتا تھا۔
امریکا کے محکمہ انصاف نے ایران میں قید چار امریکیوں کی رہائی کے وقت طیارے پر رقوم بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔پانچویں امریکی کو الگ سے رہا کیا گیا تھا لیکن محکمہ خارجہ نے اس اعتراض کو مسترد کردیا تھا۔وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ بعض لوگوں نے امریکیوں کی رہائی کے موقع پر رقوم ادا کرنے کی مخالفت کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس طرح ایرانی اس کو تاوان قرار دے سکتے ہیں۔