ایران : جوہری سائنسدان شہرام امیری کو جاسوسی کے جُرم میں پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں امریکا میں پناہ کی درخواست دینے کے بعد وطن لوٹ آنے والے کرد جوہری سائنسدان شہرام امیری کو جاسوسی کے جرم میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا نے جوہری سائنس دان کو تختہ دار پر لٹکانے کی تصدیق کی ہے۔ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اعجئی نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شہرام امیری نے دشمن کو ملک کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی تھیں اور انھیں اسی جرم میں تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔

امریکی حکام نے سنہ 2010ء میں کہا تھا کہ انھوں نے امیری کو منحرف ہونے کے لیے پچاس لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے اور انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی تھیں مگر بعد میں امیری اس رقم کے بغیر ہی امریکا سے راہ فرار اختیار کر گئے تھے اور ایران لوٹ آئے تھے۔اس کے بعد شہرام امیری کو ایرانی عدلیہ نے دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ایران میں فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل’من و تو‘ نے اپنی رپورٹ میں شہرام امیری کے اہل خانہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جوہری سائنسدان کو بدھ کی صبح پھانسی دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ شہرام امیری کا تعلق ایران کے مغربی ضلع کرمان شاہ کے کرد اکثریتی علاقے سے تھا۔ وہ ایرانی فوج کے زیراہتمام چلنے والی مالک اشتر انڈسٹریل یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ سنہ 2009ء میں مناسک حج کے دوران وہ اچانک غائب ہوگئے تھے۔ ایک سال بعد معلوم ہوا کہ وہ امریکا میں ہیں جہاں انہوں نے امریکی حکام سے پناہ کی درخواست کی تھی۔ تاہم ایران کے مطالبے پر وہ تہران لوٹ آئے تھے جہاں ایک ہیرو کے طور پر ان کا استقبال کیا گیا تھا۔

ان کا استقبال کرنے والوں میں ایرانی وزارت خارجہ کے سابق معاون حسین قشقاوی بھی شامل تھے۔ بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بناء پر ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور ریاستی راز افشاء کرنے کے الزمات میں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایران واپسی سے قبل شہرام امیری کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں یرغمال ہوچکے ہیں۔ جب کہ ایک دوسری ویڈیو میں کہا گیا کہ وہ امریکا میں رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور امریکا میں پناہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے بھی امریکا پر اپنے جوہری سائنسدان کے اغواء کاالزام عاید کیا تھا۔تاہم واشنگٹن نے تہران کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ شہرام امیری خود ہی امریکا میں پناہ کے حصول کے خواہاں تھے۔

شہرام امیری کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں متضاد اطلاعات آتی رہی ہیں۔ بعض ذرائع انہیں امریکا کا ایجنٹ قرار دیتے جب کہ ان کے امریکا کے سفرکو بعض نے ایرانی خفیہ اداروں کا ’پلاٹ‘ قرار دیا تھا۔

پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے ایک ذمہ دار سیکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ شہرام امیری کو امریکا ایرانی خفیہ اداروں ہی کی پلاننگ کے تحت لے جایا گیا۔ اس کامقصد امریکا کے اہم راز چوری کرنا تھا تاہم وہ امریکی خفیہ اداروں کے ہاتھ لگے اور انہوں نے ایران کے اہم راز امریکیوں کو فراہم کیے تھے۔ سیکیورٹی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہرام امیری نے امریکیوں کو ایران کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کی تھیں۔

ایران واپسی کے بعد گرفتاری کے عرصے میں بھی فارسی ذرائع ابلاغ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ شہرام امیری امریکیوں کو حساس نوعیت کی معلومات بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام کے راز مہیا کرتے رہے ہیں۔

ایران کی جوہری کونسل کے سیکرٹری جنرل اور جوہری تنازع کے مذاکرات کار سعید جلیلی نے جرمن اخبار’دیر اسپیگل‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شہرام امیری بیرون ملک سفر کے دوران اغوا ہوگئے تھے۔ وہ ایک سال تک لاپتا رہے۔وطن واپسی پرانہیں حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہیں۔

کرد جوہری سائنسدان شہرام امیری کو دی گئی پھانسی کی خبروں نے ایک پنڈورا بکس کھول دیا ہے کیونکہ اس سے قبل ایران کی عدالتوں نے امیری کو سزائے موت نہیں بلکہ 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

شہرام کی والدہ نے ’من وتو‘ ٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چند یوم قبل خاندان کے تمام افراد کو کرمان شاہ کی ایک جیل میں قید شہرام امیری سے ملاقات کرائی گئی تھی۔

والدہ کا کہنا ہے کہ شہرام امیری ایک فوجی کیمپ میں قید تھے۔ ایرانی عدالتوں نے انہیں دس سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم اس کے باوجود شہرام امیری کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہرام امیری کی میت آبائی شہرکرمان شاہ منتقل کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں