"فرات کی ڈھال" آپریشن کا نشانہ داعش اور کُرد ہیں : ایردوآن
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک شام کے علاقے جرابلس میں "فرات کی ڈھال" کے نام سے جو آپریشن کر رہا ہے ، اس میں داعش اور کردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دارالحکومت انقرہ میں ایک خطاب کے دوران ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شامی اراضی کی وحدت برقرار رکھنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے اور ضرورت پڑی تو ترکی خود اس معاملے کی باگ ڈور سنبھالے گا۔
ترکی کی فوج نے داعش کے انسداد کے لیے سرگرم بین الاقوامی اتحاد کی فورسز کے ساتھ بدھ کی صبح "فرات کی ڈھال" آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن میں جنگی لڑاکا طیارے اور اسپیشل فورسز کے دستے بھی شامل ہیں اور اس کا مقصد ترکی کی سرحد پر واقع شام کے شہر جرابلس سے داعش تنظیم کو نکالنا ہے۔
ایک دوسرے سیاق میں ترک صدر کا کہنا ہے کہ وہ انقرہ کا دورہ کرنے والے نائب امریکی صدر جو بائیڈن کو یہ آگاہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ امریکا کے پاس فتح اللہ گولن کو حوالے نہ کرنے کا "کوئی جواز" نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی گولن کے بے دخل کرنے کے مطالبے کے حوالے سے امریکی ذمہ داران کو دستاویزات پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ فتح اللہ گولن اس وقت امریکا میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہ گزشتہ ماہ ترکی میں فوجی انقلاب میں اپنے کسی بھی کردار کی تردید کر چکے ہیں۔
ایردوآن کے مطابق "ترکی اور امریکا تزویراتی شراکت دار ہیں اور گولن کو اپنے پاس رکھنا کسی طور واشنگٹن کے لیے فائدہ مند نہ ہوگا"۔