مین ہیٹن کے دہشت گرد کی سوئمنگ پول میں تصویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے 17 ستمبر کی رات مین ہیٹن میں ہونے والے بم دھماکے کے 28 سالہ ملزم احمد رحامی کی ذاتی زندگی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق احمد بچپن ہی سے شاہانہ مزاج کا حامل تھا۔ احمد جوان ہوا تو اس کے والد نے کابل سے تعلق رکھنے والی ایک افغانی لڑکی سے اس کی شادی کی تیاری کی جب کہ احمد ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والی ایک دوسری لڑکی سے عہدوپیمان کر چکا تھا۔

احمد کے والد نے اپنے آٹھ بچوں کے ساتھ ہجرت کر کے نیو جرسی میں سکونت اختیار کی۔ وہ 80ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں بھی شریک ہوئے تھے۔ احمد بچپن میں انٹرنیٹ پر جہاد اور لڑائی سے متعلق وڈیوز دیکھنے کا شوقین تھا۔ اس کے والد کئی مرتبہ روکا مگر وہ باز نہ آیا۔

احمد رحامی کی کہانی ان بہت سے افراد سے ملتی جلتی ہے جنہوں نے امریکا اور یورپ میں دہشت گرد کارروائیاں کیں۔ تاہم ایک فرق یہ نظر آتا ہے کہ ایک قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے احمد کی بغاوت مغرب کے خلاف نہیں بلکہ اپنے والد کے خلاف تھی جنہوں نے امریکا میں رہتے ہوئے بھی اپنے گھریلو معاملات ایسے چلانے کی کوشش کی گویا کہ وہ افغانستان میں سکونت پذیر ہیں۔

احمد رحامی کا کوئی ایسا بھائی نہیں جو اس کو دہشت گردی کی طرف لے کر آتا، اس کے پیچھے کوئی واضح دہشت گرد گروپ یا شدت پسند بیوی بھی نظر نہیں آتی ہے۔ القاعدہ اور داعش سے بھی اس کا تعلق نہیں ہے تاہم وہ ان دونوں فریقوں کو سراہتا تھا۔

احمد کا خواب تھا کہ وہ ایک روز پولیس آفیسر یا امریکی فوج کے ساتھ مترجم کے طور پر خدمات انجام دے۔ تاہم وہ 11 ستمبر کے حملے کے بعد نیویارک میں ہونے والے خطرناک ترین حملوں میں سے ایک کا مرکزی ملزم اور منصوبہ ساز نکلا۔ احمد کے والد اور دوستوں سے بات چیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کو دہشت گردی کی دنیا میں لے جانے والی چیز صرف انٹرنیٹ ہے۔

احمد کی زندگی اپنے بھائی کے مقابلے میں صفر رہی جو کالج سے گریجویشن کے بعد امریکا میں ایک بڑی کمپنی "اوبر" میں کام کرنے لگا۔ دوسری جانب احمد تقریبا ہر چیز میں ناکام ہوا۔ اس نے متعدد نوکریاں کیں مگر کہیں کامیاب نہ ہو سکا۔ بالآخر اس نے زندگی کا مقصد اپنے اہل خانہ سے دور چلا جانا بنا لیا۔

جوانی میں وہ ایک دیوانہ سا لڑکا تھا جو ڈھیلی ڈھالی جینز پہنتا تھا اور ایک لڑکی کے عشق میں بھی گرفتار ہوا۔ دوسری جانب اس کے قدامت پسند والد بیٹے کی تربیت کے واسطے اسے افغانستان بھیجنے کا سوچتے رہے۔ بالآخر اپریل 2013 میں احمد کو ایک سال کے لیے پاکستان میں چھوڑ دیا گیا۔ اس دوران اس نے ترکی اور افغانستان کا سفر بھی کیا۔

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں وہ اپنے ایک عزیز کے گھر پر ٹھہرا۔ تاہم اس دوران وہ شہر کی ایک سخت گیر مذہبی شخصیت ملا قادری کے ہتھے چڑھ گیا۔ بعد ازاں احمد امریکا لوٹا تو اس میں خطرناک تبدیلیاں آ چکی تھیں تاہم اس نے ایسا ظاہر کیا کہ معاملات بہتر ہوجائیں گے اور وہ خاندانی ریستوران کو سنبھالنے کے لیے تیار ہو گیا۔

احمد رحامی کے والد محمد رحامی کا تعلق قندھار کے پشتون قبائل سے ہے۔ انہوں نے 1979 میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں شرکت کی اور بعد میں پاکستان میں قیام اختیار کی۔ 1988 میں کوئٹہ میں ان کے گھر تیسری اولاد یعنی کہ احمد رحامی کی پیدائش ہوئی۔ 1989 میں محمد رحامی نے نیوجرسی ہجرت کر کے وہاں پناہ کی درخواست دی جب کہ ان کی عمر 26 برس تھی۔ 1995 میں محمد رحامی کی اہلیہ نجیبہ اپنے 4 بچوں کے ساتھ امریکا آگئی جہاں ان کے گھر مزید 4 اولادیں پیدا ہوئیں۔ اس گھرانے پر ابتدائی برس کافی مشکل گزرے اور عام طور پر تقریبا تمام مہاجرین کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ ان مشکلات میں ایک گھر سے دوسرے گھر منتقلی اور محمد رحامی کے امریکی پولیس کے ساتھ جھگڑوں کے معاملات نمایاں ترین ہیں۔

رحامی نیویارک پہنچے تاکہ اپنے دیگر افغانی ہم وطنوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فرائیڈ چکن کا ریستوران قائم کرنے کے لیے کام شروع کریں۔

90ء کی دہائی میں رحامی پیزا اور فرائیڈ چکن کی تیاری میں معاون کے طور پر کام کرچکے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی ذاتی دکان کا افتتاح کیا جس کا نام "فرسٹ امریکن فرائیڈ چکن" رکھا۔ دو برسوں کے اندر وہ مشہور و معروف "KFC" کی چین میں شامل ہو گئے۔

رحامی کے گھرانے نے 9 برس نیوجرسی کے علاقے ایوری ِہل میں گزارے۔ اس دوران احمد اپنے بڑے بھائی کے ساتھ باسکٹ بال کھیلنے جاتا اور وہ دونوں کچھ وقت پارکوں میں بھی گزارتے۔ اس عرصے میں رہائشی کمپاؤنڈ کی بالائی منزل میں مسلمانوں کے لیے مسجد قائم کر دی گئی۔ محمد رحامی کے چھوٹے بچے جمعے کے روز اپنے قومی لباس میں نماز میں شرکت کرتے۔

احمد کے ایک دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ احمد نوجوانی میں سیاست میں بڑی دل چسپی رکھتا تھا۔ وہ پاکستان اور اس کی انٹیلجنس پالیسی کے خلاف انتقامی جذبہ رکھتا تھا اور غصے میں یہ بھی کہتا تھا کہ افغانی انٹیلجنس نے ہی طالبان کو پیدا کیا۔

امریکا منتقلی کے بعد احمد رحامی نے کوئٹہ کا پہلا دورہ اسکول کی تعلیم ختم ہونے سے ایک سال قبل کیا تھا۔ وہ جنوری 2006 تک کوئٹہ میں رہا۔ اس کے بعد واپس آ کر ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ اس کے ایک ہم جماعت کا کہنا ہے کہ احمد ریاضی کے سوالات حل کرنے سے زیادہ سماجی تعلقات قائم کرنے میں دل چسپی رکھتا تھا۔

اس دوران اس کا تعارف ڈومینکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی ماریا مینا سے ہوا۔ ماریا اس کی محبوبہ بن گئی جس کے ساتھ وہ اپنا اکثر وقت گزارتا اور نوبت حاملہ ہونے تک جا پہنچی۔ دوسری جانب احمد کے والد محمد رحامی بیٹے کے ان کرتوتوں پر چراغ پا ہو گئے جو روایتی طریقے سے ایک افغانی لڑکی کے ساتھ احمد کی شادی کی تیاری کر رہے تھے۔ احمد نے اپنے والد کی بات پر کان نہ دھرا اور ماریا کے ساتھ اپنے تعلق کو بخوشی جاری رکھا۔

جولائی 2007 میں وہ اپنے والد کی جانب سے مجبور کیے جانے پر پاکستان جانے والے طیارے میں بٹھا دیا گیا اور اپنے پیچھے ماریا کو تنہا چھوڑ گیا جس کو اپنے ہونے والے بچے کو سنبھالنا تھا۔ مارچ 2008 میں واپسی کے بعد اس نے ایک بار پھر ماریا کے ساتھ تعلق بحال کرنے کی کوشش کی۔ وہ ماریا کے گھرانے کے ساتھ رہنے کے لیے منتقل ہوگیا اور ایک کمپنی میں ہفتہ وار 485 ڈالر کی تنخواہ پر ملازمت کر لی۔

بعد ازاں احمد پراسرار حالات میں ماریا سے علاحدہ ہو گیا۔ وہ افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ مترجم کی ملازمت کے حصول کے سلسلے میں واشنگٹن چلا گیا تاہم افغانستان کی دو مرکزی زبانوں پشتو اور دری میں صرف ایک زبان (پشتو) جاننے کی وجہ سے احمد کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

منصوبہ

گزشتہ جون میں احمد رحامی نے انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف اشیاء کا آرڈر دینا شروع کیا۔ ان میں سیٹرک ایسڈ اور الکٹرونک سرکٹ بورڈز شامل ہیں۔ وہ اپنی یادداشتوں کی نوٹ بک میں مختلف عبارتیں لکھتا جن میں اس طرح کے الفاظ تحریر ہوتے کہ "تم لوگ جلد دھماکوں کی آوازیں سنو گے۔ بہت جلد پولیس اہل کار مارے جائیں گے" وغیرہ۔

ہفتہ 17 ستمبر کو بالآخر مین ہیٹن میں دھماکا ہوا۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تین بجے محمد رحامی نے اپنی دکان کو بند کیا۔ وہ پہلے نماز کو اور پھر سونے کو چلے گئے۔ اسی دوران انہوں نے شور کی آواز سنی اور ایک پولیس افسر کو فلیٹ پر دھاوا بولتے دیکھا۔ افسر نے رحامی کو ہاتھ اٹھا کر باہر آنے کا حکم دیا۔ کمرے کے باہر انہیں اپنے تین بیٹے محمد خان ، قاسم اور نسيم ہاتھوں میں ہتھکڑی کے ساتھ نظر آئے۔ محمد رحامی کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور ان کے ذہن کی پریشانی ایک سوال کی صورت میں زبان پر آگئی اور انہوں نے ایک ایک کر کے اپنے بیٹوں پر نظر ڈالی اور پھر پوچھا کہ "احمد کہاں ہے؟".

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں