ایرانی فورسز کی اہواز میں کار پر فائرنگ ،تین سالہ بچی جاں بحق ،باپ گرفتار
ایران کی سکیورٹی فورسز نے اہواز شہر کے مغرب میں ایک چیک پوائنٹ پر اہوازی عرب خاندان کی کار پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں ایک تین سالہ بچی جاں بحق ہوگئی ہے۔
ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سوموار کی شب اس کار پر فائرنگ کی تھی کیونکہ اس بچی کے والد عباس سواری نے چیک پوائنٹ پر رکنے کے لیے حکم کی پاسداری نہیں کی تھی۔
عباس سواری ایران کی داخلی سکیورٹی سروسز کو مطلوب ہیں۔فائرنگ سے ان کی بیٹی رغد موقع پر ہی دم توڑ گئی اور ان کی بیوی گولی لگنے سے زخمی ہوگئی ہے۔انھیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بعد میں سواری کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار اہواز میں عرب نسل کے افراد کے خلاف ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں ایرانی پولیس نے اہواز کے مشہور کاروباری علاقے النہضہ میں چھاپا مار کارروائی کے دوران ایک سترہ سالہ عرب لڑکے علی جلالی کو ہلاک کردیا تھا۔اس واقعے کے خلاف سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔