.

ٹرمپ حکومت کے پہلے 100 روز میں کیا کریں گے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ماہ اکتوبر میں امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی اہم خطاب میں حکومت کے ابتدائی 100 روز کے دوران اپنے منصوبے کا انکشاف کیا تھا اور اسے امریکیوں کے ساتھ " معاہدہ " قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنا یہ اہم خطاب ریاست پینسلوینیا میں خاص طور پر گیٹس برگ کے مقام پر کیا تھا۔ یہ وہ ہی مقام ہے جہاں امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863 میں شمال اور جنوب کے درمیان خانہ جنگی سے دوچار امریکا کو متحد کرنے کے لیے تاریخی خطاب کیا تھا۔

ٹرمپ کے اعلان کردہ اولین 100 روز کے پروگرام میں خطرناک ترین پہلو جرائم میں ملوث غیر قانونی مہاجرین کے بے دخلی اور دہشت گرد علاقوں سے آنے والے مہاجرین کے داخلے پر پابندی پر عمل درآمد ہے۔

انہوں نے امریکا کے جنوب میں میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرانے کا عہد کیا۔

ٹرمپ نے صدر اوباما کی جانب سے انتظامی احکامات اور فیصلوں میں کی جانے والی غلطیوں کے ازالے کا بھی وعدہ کیا۔ ان میں اہم ترین اوباما کی جانب سے منظور کیے جانے والے صحت کے بیمے سے متعلق نظام کی منسوخی ہے۔ ٹرمپ نے اس نظام کو آفت قرار دیتے ہوئے اسے ایک نئے نظام سے تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی انتظامیہ میں اصلاحات کے حوالے سے ٹرمپ کہنا تھا کہ وہ آئینی ترمیم کے ذریعے امریکی کانگریس کے ارکان کے انتخاب کی باریوں کو محدود کریں گے۔

انہوں نے باور کرایا تھا کہ وہ وفاقی ملازمتوں میں نئے تقرر کو منجمد کر دیں گے تاہم بعض شعبے مثلا فوج وغیرہ مستثنی ہوں گے۔

آزاد تجارت کے بارے میں ٹرمپ نے زور دیا کہ شمالی امریکا کے وہ شمالی امریکا کے لیے آزاد تجارت کے معاہدے کے حوالے سے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ پھر سے مذاکرات کریں گے۔

خارجہ سیاست کے سلسلے میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے "نیٹو" کے رکن ممالک میں سے کسی ایک ملک پر حملے کے صورت میں تمام رکن ممالک کی مکمل حفاظت کی ضمانت نہ دی جا سکے۔

ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر مختلف ممالک کی جانب سے واشنگٹن کو مذکورہ تحفظ کے اخراجات نہیں ادا کیے گئے تو یورپ اور ایشیا سے امریکی افواج کو واپس بلا لیا جائے گا۔

ماحولیات اور توانائی کے میدان میں ٹرمپ نے ماحولیاتی تبدیلی کے انسداد سے متعلق اقوام متحدہ کے پروگرام کے لیے پیش کی جانے والی امریکی امداد کو ختم کرنے اور انہیں امریکا میں خدمات کے نیٹ ورکوں کے لیے مختص کرنے کا عہد کیا۔

مذکورہ خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جو ہیلری کلنٹن کے مفاد میں ٹرمپ کو کریک ڈاؤن کا نشانہ بنا رہا تھا۔