اوباما نے ایران پر پابندیوں کا معاملہ نظرانداز کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے خلاف پابندیوں میں توسیع کی اجازت دی مگر اس کے ساتھ ہی اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل اس بل پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔

وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر کے دستخط کے بغیر بھی ایران پر پابندیوں میں توسیع کا بل نافذ العمل ہوجائے گا۔

توقع ہے کہ صدر براک اوباما کچھ دیر بعد ایران پر پابندیوں میں توسیع کے مجوزہ بل پر دستخط کردیں گے مگر تاخیر سے ہونے والے دستخط کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے اور دستخط اتنے ضروری بھی نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے حال ہی میں ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ایک نئے بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت ایران پر اگلے 10 سال تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔

صدر براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کی تجدید کے لیے منظور کردہ بل سے ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے سمجھوتے کے متاثر ہونے کا اندیشہ نہیں کیونکہ وائیٹ ہاؤس جوہری پروگرام سے غیر مربوط پابندیوں کو بہ تدریج ختم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان کے 99 ارکان نے بھی ایران کے جوہری پروگرام سے غیر متعلق پابندیاں اٹھائے جانے کے بل کی منظوری دی تھی۔ اس وقت کسی رکن نے اس بل کی مخالفت نہیں کی۔ سنہ 2015ء میں امریکی سینٹ بھی ایک بل کی منظوری دی چکی ہے جس میں سفارش کی گئی تھی کہ ایران کے جوہری پروگرام سے ہٹ کر دوسری نوعیت کی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکا نے سنہ 1996ء میں ایران پر پابندیاں عاید کی تھیں۔ اس کے بعد معمول کے مطابق ہر 10 سال کے بعد ان کی تجدید کی جاتی ہے۔

ایران پر پابندیوں سے متعلق بل میں ایران کے بینکاری سیکٹر پر پابندیاں، دفاع اور توانائی پر پابندیاں شامل ہیں تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پابندیوں میں تجدید جوہری معاہدے کی روح کے خلاف ہے کیونکہ عالمی طاقتیں جوہری پروگرام محدود کرنے کے بدلے میں ایران پر پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ سنا چکی ہیں۔

امریکا نے ایران پر پابندیوں کی تجدید کے بل کی ایک ایسے وقت میں منظوری دی ہے جب گذشتہ منگل کو ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے دفاعی ماہرین کو جوہری طاقت سے چلنے والے بحری جہازوں کا خاکہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایرانی صدر نے یہ اقدام بہ قول ان کے جوہری معاہدے کی دوسرے ملکوں کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کا رد عمل ہے۔

گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہرے سمجھوتے کو آگے بڑھانا ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس وقت بھی امریکا کے تزویراتی اہداف میں اہران کےجوہری پروگرام کو نافذ العمل کرنا شامل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے وائیٹ ہاؤس کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی تجدید کو غیر ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر پابندیوں کی تجدید کے بغیر بھی معاہدے کی خلاف ورزی کا نوٹس لے کر اس کا حل نکال سکتا ہے۔ اگر ایران پھر بھی معاہدے کے خلاف ورزیاں جاری رکھے تو دوبارہ تہران پر پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ ایران پر پابندیاں اٹھائے جانے کے لیے رابطہ کاری کے تمام چینل استعمال کیے ہیں۔ ایران کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس پر دوبارہ مزید سخت اقتصادی پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں