.

ترکی میں سال نو کا جشن ماتم کدہ بن گیا

نائٹ کلب میں دھماکوں سے 75 افراد ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں سال 2017ء کی آمد پر دہشت گردی کی بدترین واردات کے نتیجے میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق استنبول شہر کے گورنر واصب شاہین نے میڈیا کو بتایا کہ شہر کے ایک پرھجوم نائٹ کلب میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب استنبول میں قائم ایک نائٹ کلب میں سال نو کی مناسبت سے جشن منایا جا رہا تھا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بیشتر پولیس اہلکار شامل ہیں۔

واصب شاہین نے کہا کہ دہشت گردی کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 35 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جب کہ چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں بعض کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ استنبول کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے،حکومت نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو فوری اور ہرممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’دوگان‘ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہوں نے کلب میں عربی زبان میں چیخ پکار کرتے لوگوں کو سنا۔ ترک میڈیا کے مطابق حملے کے وقت نائیٹ کلب میں 600 افراد موجود تھے۔

ترک صجافی اور تجزیہ نگار اوکتائی یلماز نے ’الحدث‘ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد کم سے کم دو تھی جنہوں نے دھماکے کیے اورشدید فائرنگ کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آور ’سانٹا کلوز‘ کے حلیے میں کلب میں داخل ہوئے اور اندر آتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

خیال رہے کہ حملوں کا نشانہ بننے ولا نائٹ کلب استنبول کی ’اورتاکوی‘ کالونی میں واقع ہے۔ یہ کالونی ترقی یافتہ ہونے کی بناء پر ایلٹ کلاس کے لوگوں کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔

سرکاری ٹی وی ’این ٹی وی‘ کے مطابق فائرنگ سے خوف زدہ شرکاء میں سے بعض نے پانی میں چھلانگ لگا دی تاہم پولیس نے انہیں بچا لیا۔

امریکا سمیت عالمی برادری نے استنبول میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے پیشکش کی ہے کہ دہشت گردی کی کارروائی کی تحقیقات کے لیے معاونت کے لیے تفتیش کار بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔