.

کانگریس میں پاسداران انقلاب اور اخوان پرپابندیوں کے نئے بل پیش

خامنہ ای کو اپنے اعمال کی جواب دہی کا وقت آگیا:امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ری پبلیکن رکن ٹیڈ کروز، ایوان نمائندگان میں قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین مائیکل ماکویل اور سینٹر ماریو بالارٹ نے کانگریس میں دو نئے مسودہ ہائے قانون پیش کیے ہیں جن میں محکمہ خارجہ کو ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون کے ٹرائل کا پابند بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان قانونی مسودوں میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون بنیاد پرست اور تشدد پر اکسانے والے گروپ ہیں۔ لہٰذا انہیں دہشت گرد قرار دے کران پر پابندیاں عاید کی جائیں۔

کانگریس میں پیش کردہ مسودہ قانون کی تفصیلات سینٹر ٹیڈ کروز نے اپنی اپنی ویب سائیٹ پر بھی پوسٹ کی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے میں آنے والی تفصیلات کے مطابق ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون اور پاسداران انقلاب مغرب میں قتل وغارت گری جیسے جرائم کو فروغ دینے میں ملوث رہے ہیں۔ امریکا کو ان دونوں کے خلاف ہرقسم کی قانونی چارہ جوئی کرنے، ان کا ناطقہ بند کرنے، ان کے مالی سوتے خشک کرکے دہشت گردی کا ذریعہ بننے والوں کا احتساب کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے۔

امریکی سینٹر نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد ادارہ اور فوج قرار دینے کی سفارش کی ہے جب کہ سینٹر ماریو بالارٹ نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد گروپوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹیڈ کروز کا کہنا ہے کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ امریکا میں بنیاد پرست سیاسی اسلام کے خلاف قانونی ترامیم کے لیے اقدامات کا آغاز ہوا ہے۔ توقع ہے کہ ان قانونی اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے عناصر کی جڑیں کاٹنے میں آسانی ہوگی۔

امریکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ

امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے الزام عاید کیا کہ سبکدوش ہونے والے صدر باراک اوباما کے دور میں دنیا بھر میں بنیاد پرست اسلام پسند گروپوں کو تقویت حاصل کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ صدر باراک اوباما امریکی قومی سلامتی اور امریکی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بنیاد پرست عناصر اور گروپوں کو سراٹھانے کا موقع ملتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور ایرانی پاسداران انقلاب کے جرائم سے پہلو تہی اختیار کیے جانے کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عالمی تنازعات کے حل کے لیے پاسداران انقلاب اور اخوان المسلمون کے ساتھ نرمی برتنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کو ان کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں اپنے اعمال کا حساب دینے کا موقع دیا جائے۔

سینیٹر ٹیڈ کروز کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا بنیادی کردار اور ذمہ داری ایرانی فوج کو مضبوط بناتے ہوئے اسے دہشت گردی کے لیے تیار کرنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی وزارت خزانہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام القدس یونٹوں کو دہشت گرد گروپ قرار دے چکی ہے۔

حماس، القاعدہ اور تنظیم الجہاد

امریکی کانگریس کے رکن ڈیاز بالارٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی حکومت کی طرف سے باضابطہ طور پر اخوان المسلمون کی ذیلی شاخیں سمجھی جانی بعض تنظیموں بالخصوص فلسطینی تنظیم حماس، القاعدہ اور اسلامی جہاد کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے مگر ان تمام گروپوں کی سرپرست اور پشتیبان اخوان المسلمون کے خلاف ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

سینٹر بالارٹ کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے امریکا اور مغرب کے حوالے سے نظریات کسی سےڈھکے چھپے نہیں۔ اخوان مغربی تہذیب کے خلاف علم جہاد بلند کیے ہوئے ہے۔ شمالی امریکا اور دوسری ریاستوں میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کے بعد بھی اس تنظیم پر پابندی عاید نہ کرنا اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں اور ملک کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

ڈیاز بالارٹ نے ٹیڈ کروز کی جانب سے اخوان المسلمون اور پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کے مطالبے پرمبنی قوانین پیش کرنے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اخوان المسلمون اب بھی دہشت گردی کی مکمل پشت پناہی کررہی ہے۔