.

ٹرمپ امریکا میں مسلمانوں کے داخلے کو روکنے کا وعدہ پورا کریں گے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں متعدد معاونین اور تارکین وطن کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کے روز نفاذ سے متعلق متعدد احکامات پر دستخط متوقع ہیں۔ ان کے تحت شام سے ہجرت پر عارضی پابندی کے علاوہ عراق ، ایران ، لیبیا ، صومالیہ ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کے لیے بھی ویزوں کا اجراء روک دیا جائے گا۔

غالب گمان ہے کہ تمام ملکوں سے پناہ گزینوں کے قبول کیے جانے پر پابندی کئی ماہ تک عائد رہے گی جب کہ وزارت خارجہ اور داخلہ سکیورٹی کی وزارت کی جانب سے جانچ اور تفتیش کے اصول و ضوابط بھی سخت کر دیے جائیں گے۔

سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ میں شہریت اور ہجرت کے امور سے متعلق سینئر قانونی مشیر اسٹيفن لیگومسکی کا کہنا ہے کہ "اگر صدر اس کو مفادِ عامّہ میں شمار کرے تو اُس کے پاس اختیار ہے کہ پناہ گزینوں کی درخواستیں قبول کرنے اور ویزوں کے اجراء پر روک لگا دے۔ یہ صدر کے قانونی دائرہ کار کے اندر ہے تاہم پالیسی کے نقطہ نظر سے یہ انتہائی بُرا خیال ہے اس لیے کہ پناہ گزینوں کو اس وقت انسانی بنیادوں پر فوری ضرورت ہے"۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر عارضی پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ ٹرمپ اور وزیر انصاف کے منصب کے لیے ان کے نامزد امیدوار سینیٹر جیف سیشنز کا کہنا ہے کہ اُس وقت سے اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ ایک مخصوص مذہب سے تعلق رکھنے والوں پر پابندی عائد کرنے کے بجائے اُن ممالک پر روک لگائی جائے جن کے مہاجرین خطرہ بن سکتے ہیں۔

وہائٹ ہاؤس کے ترجمان شون اسپائسر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے نامزد وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے منصب سنبھالنے پر خارجہ امور اور داخلہ سکیورٹی کی وزارتیں جانچ اور تفتیش کی کارروائی پر کام کریں گی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے میسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر اور امریکا میں مقیم غیر قانونی مہاجرین کو بے دخل کرنے کے ذریعے غیر قانونی ہجرت پر روک لگانے کا وعدہ کیا تھا۔

اس بات کی بھی توقع ہے کہ نئے وزیر داخلہ ریٹائرڈ جنرل جون کیلی بدھ کے روز اپنے منصب کا حلف اٹھائیں گے۔