.

چائے کے پیکٹ انسانی صحت کے لیے ٹائم بم!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھرمیں کالی پتی [چائے] کی پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے پیکٹ انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں اور ان سے کینسر جیسے جان لیوا مرض کے لاحق ہونے کے خطرات بھی موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جرمن ماہرین صحت نے ’امبرالیڈ‘ یونیورسٹی کے زیراہتمام ایک نئی تحقیق کی جس میں بتایا گیا ہے کہ چائے کے پیکٹوں میں کینسر کے جراثیم پیدا کرنے کا مواد موجود ہوتا ہے۔

یہ رپورٹ سائنسی جریدے ’سائنس ڈیلی‘ میں حال ہی میں شائع کی گئی جس میں چائے کی تمام اقسام اور ان کے پیکٹوں کے خطرات بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی کالی چائے کی چھ میں سے تین سسی اقسام اور تین مہنگی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کم سے کم چائے کی 4 اقسام کرم کش کیمیکل پر مشتمل ہیں۔ اس مواد کی کم سے کم 10 اقسام کے صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ چائے کی پیکنگ کے استعمال ہونے والے کاغذ، پلاسٹک اور epichlorohydrin نامی مواد اور کرم کش اشیا ہیں۔

چائے کے مضر صحت پیکٹوں سے بچنے کا مناسب حل یہ ہے کہ پینے کے لیے اس چائے کا استعمال کیا جائے جو پیکٹوں میں بند نہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے کی پیکنگ کے لیے تیار کردہ پیکٹ MCPD3 نامی سرطانی مواد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان پیکٹوں کو پانی لگ جائے تو یہ اور بھی مضرصحت ہوتے ہیں جسے خوراک کے باب میں عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔