جرمنی: نشے کی حالت میں گرفتار شخص 25 سال پرانے قتل مجرم نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمنی کی پولیس نے حال ہی میں نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کے دوران یک شخص کو روکا۔ تفتیش کرنے پر پتا چلا کہ یہ شخص آج سے 25 سال پہلے قتل کے جرم میں بھی ملوث ہے۔

جرمنی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 52 سالہ ملزم کو گذشتہ ہفتے زیریں ساکسونیا کے علاقے سے نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ مغربی جرمنی کے علاقے بون کے پراسیکیوٹر جنرل اور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر دو مرتبہ پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے 1991ء میں بون شہر میں ایک خاتون کو بھی قتل کیا تھا۔

پولیس کے مطابق 38 سالہ مقتولہ کے جسم پر چاقو کے حملے اور تشدد کے نشانات تھے۔ اس کی میت گھر سے ملی تھی مگر اس کے قاتل کا پتا نہیں چلا تھا۔

زیرحراست شخص نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے بچپن میں قتل اور تشدد کے مناظر پرمبنی فلمیں دیکھ رکھی تھیں اور وہ مناظر اکثر اس کے ذہن میں گھومتے رہتے تھے۔ وہ اکثر اپنے پاس ایک تیز دھار چاقو لیے پھرتا تاکہ اسے کسی شخص کو قتل کرنے کا موقع ملے۔

بالآخر اس نے ایک گھر میں گھس کر ایک خاتون کو باندھا، جب اس نے چلانا شروع کیا میں خوف زدہ ہوگیا، میں نے اسے چیخنے سے روکنے کے لیے اس پر چاقو کے پے درپے وار کیے یہاں تک کہ اسے موت کی نیند سلا دیا۔

پولیس کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ملزم نے یہ اعتراف جرم پچیس سال کے بعد کیوں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں