.

ایتھوپیا : نصف صدی سے جمع کچرے کا ٹیلہ گرنے سے 50 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقہ کے ملک ایتھوپیا میں کچرے کا 15 میٹر بلند ٹیلہ ڈھے جانے کے نتیجے میں 50 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ خبررساں ایجنسیوں نے مقامی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دارالحکومت ادیس ابابا کے نزدیک کوشی نامی علاقے میں پیش آیا۔ حادثے کے وقت جائے واقعہ پر 150 سے زیادہ مقامی افراد موجود تھے۔ مذکورہ جگہ گزشتہ 50 برسوں سے 40 لاکھ آبادی والے شہر ادیس ابابا کے لیے مرکزی کچرا کنڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

کئی ٹن کچرا گرنے کی وجہ سے متعدد جھونپڑیاں اس کے ملبے تلے دب گئیں۔ مقامی بلدیہ کی خاتون ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم عمر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ یہ افراد اپنے گزر بسر کے لیے آمدنی کی غرض سے کچرے کو کام میں لاتے تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں 14 مرد اور 32 خواتین شامل ہیں۔

اس سے قبل بھی دنیا کے دیگر ممالک میں کچرے کے ٹیلوں کے ڈھیر ہوجانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ جولائی 2000 میں فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں 15 میٹر بلند کچرے کا ڈھیر یک دم گر جانے کے نتیجے میں 208 فلپینی ہلاک اور 1000 زخمی ہو گئے تھے۔ کچرے کے ڈھیر سے متعلق کسی بھی حادثے میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

ستمبر 2016 میں افریقہ کے ملک بینن کے ایک بڑے شہر کوٹونو سے 20 کلومیٹر دور کچرا جلانے کے مقام پر ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں 100 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 200 افراد زخمی ہوئے۔