.

عرب اتحاد کا یمنی بندرگاہ کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن کے مغربی شہر حدیدہ کی بندرگاہ کو فوری طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے یہ مطالبہ صومالی تارکین وطن کی یمن کی ساحلی حدود میں ہلاکت کے واقعے کے بعد کیا ہے۔

عرب اتحاد نے ایک بیان میں اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صومالی مہاجروں پر حملے کا ذمے دار نہیں ہے اور جمعہ کو اس علاقے میں اس نے کوئی فائرنگ نہیں کی تھی اور نہ حدیدہ کی بندرگاہ پر کوئی فضائی حملہ کیا گیا تھا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) نے فرانس کے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’مجروحین و مقتولین کے جسموں پر نشانات سے یہ پتا چلا ہے کہ ان پر ہلکے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا‘‘۔

عرب اتحاد نے حدیدہ کی بندرگاہ کو فوری طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یمنی عوام کو انسانی امدادی سامان بروقت پہنچانے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ اس بندرگاہ کو ہتھیاروں اور لوگوں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے سے بھی روکا جاسکے گا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ صومالی افراد پر کس نے حملہ کیا تھا۔بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کی خاتون ترجمان لولینڈا ژاق میٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ حملہ کس نے کیا ہے لیکن زندہ بچ جانے والے افراد نے بتایا ہے کہ ان پر رات کے نو بجے ایک اور کشتی سے حملہ کیا گیا تھا۔اس پر ان کی کشتی کے عملہ نے بتیاں روشن کی تھیں اور وہ یہ چلّا چلّا کر یہ کہتا رہا تھا کہ ان کی کشتی پر شہری سوار ہیں۔ان کی اس کوشش کا کچھ اثر نہیں ہوا تھا اور اس کے بعد ایک ہیلی کاپٹر نے بھی حملے میں حصہ لیا تھا‘‘۔

اس حملے میں بیالیس صومالی مہاجر ہلاک ہوگئے تھے۔وہ حدیدہ کی بندرگاہ سے کشتی پر روانہ ہوئے تھے اور وہاں سے سوڈان جارہے تھے۔اس دوران ان کی کشتی حملے کی زد میں آگئی تھی۔