ایرانی صدارتی انتخابات تک ٹیلی گرام کا گلا گھونٹ دیاگیا

ٹیلی گرام قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی حکومت نے ملک میں آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کی آڑ میں سوشل میڈیا کا ایک بار پھر گلا گھونٹنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر منتظری نے کہا ہے کہ 19 مئی 2017ء کو ہونے والے صدراتی انتخابات کے اختتام تک ’صوتی پیغام کی ترسیل‘ کے لیے استعمال ہونے والی ’ٹیلیگرام‘ سروس انتخابی نتائج آنے تک بند رہے گی۔

ایران کے سرکاری ٹی پر نشر ایک بیان میں جعفر منتظری کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ادارے ٹیلی گرام سروس کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے جب تک ملک میں صدارتی انتخابات نہیں ہوجاتے اس وقت تک ٹیلی گرام کی سروس بند رہے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ منگل کو ایرانی وزیرمواصلات محمود واعظی نے ایک حکم نامے کے تحت ملک میں ٹیلی گرام سروس بند کر دی تھی۔ یہ بندش ایرانی عدالت کی طرف سے پہلے سے عاید پابندی اٹھائے جانے کے فیصلے کے محض دو روز بعد عاید کردی گئی۔

ایرانی پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ انتخابات کے دوران ٹیلی گرام اور دیگر سوشل میڈیا سروسز قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتی ہیں، اس لیے ان پر پابندی عاید کی جاتی ہے۔

پاسداران انقلاب کے زیرانتظام انٹیلی جنس حکام نے اصلاح پسندوں کے مقرب ٹیلی گرام چینل چلانے والے 12 شہریوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں صدر حسن روحانی کے حامی بھی شامل ہیں۔ ایران ارکارن پارلیمنٹ نے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں