ایران، عراقی کردستان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ

کردستان کی علاحدگی کا ریفرنڈم روکنے کی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں کرد آبادی میں پائے جانے والے اختلافات سے فایدہ اٹھاتے ہوئے ایران عراقی کردستان میں جاری علاحدگی کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اطلاعات کے مطابق عراق میں کردستان کی آزادی کے لیے ریفرنڈم کرانے کی کوششوں میں ایران مسلسل رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں کردستان کی علاحدگی کے لیے مجوزہ ریفرنڈم کی راہ روکنے کے لیے جنرل قاسم سلیمانی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ جنرل سلیمانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ایرانی ملیشیا فیلق القدس کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے عراقی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کردستان کی علاحدگی کےلیے جاری کوششوں کو روکیں اور آزاد کردستان کے لیے ریفرنڈم نہ ہونے دیں۔

کرد اور ایرانی میڈیا کے مطابق حال ہی میں جنرل قاسم سلیمانی نے عراق کے علاقے سلیمانیہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے کردستان نیشنل الائنس کے عہدیداروں سمیت سرکردہ سیاسی رہ نماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی بغداد میں اپنے اثرو نفوذ اور الحشد الشعبی ملیشیا میں اپنے رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کرد آباد پر آزادی کے لیے ریفرنڈم روکنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران نہ صرف سیاسی طور پر عراقی کردستان کی علاحدگی کو روکنے کے لیے اثر انداز ہو رہا ہے بلکہ تہران ماضی میں کردستان کی علاحدگی پسند تنظیموں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا راستہ بھی اپنا چکا ہے۔

یہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ ایران نے متعدد بار علاحدگی پسند کرد تنظیم کرد ورکرز پارٹی کے مراکز پر بمباری کی جس کےنتیجے میں دسیوں کرد رہنما اور کارکن ہلاک ہوئے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران کی طرف سے عراقی کردستان کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر کردوں نے اپنی الگ ریاست قائم کی تو ایران اس پر اقتصادی پابندیاں عاید کرے گا اور موجودہ تجارتی سہولیات ختم کردی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں