مریم رجوی نے ایران میں’’ ڈھونگ‘‘انتخابات کو مسترد کردیا
ایرانی حزب اختلاف کی معروف رہ نما مریم رجوی نے ملک میں 19 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کو ڈھونگ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔
مجاہدینِ خلق پارٹی کی سربراہ نے بدھ کو سلسلہ وار ٹویٹس کیے ہیں اور ان میں کہا ہے کہ صدر حسن روحانی مجاہدین خلق کے کارکنوں کےقتل عام کے سب سے تباہ کن کیس کو چھیڑنے سے انکار کرچکے ہیں۔
انھوں نے لکھا ہے:’’ روحانی یہ بات تو تسلیم کرتے ہیں کہ ڈی حکمراں نظام نے گذشتہ اڑتیس سال کے دوران میں لوگوں کو پھانسیوں پر چڑھانے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے لیکن یہ اور بات ہے کہ وہ موقع پرستی سے کام لے رہے ہیں۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں سخت گیر صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’’اگر ایرانی رجیم خطرے سے دوچار نہ ہوتا تو آیت اللہ علی خامنہ ای کبھی رئیسی کو نامزد نہ کرتے اور وہ ان کے سب سے خطرناک مجرموں میں سے ایک ہیں‘‘۔
مریم رجوی کا کہنا تھا کہ ایرانی رجیم ملکی آبادی کے صرف چار فی صد کی نمائندگی کرتا ہے اور صرف اسی سے انتخابات کی نوعیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ایران میں جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں صرف دو امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔صدر حسن روحانی اور قدمت پسند امیدوار ابراہیم رئیسی کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور ان کے حامی موخر الذکر امیدوار کی حمایت کررہے ہیں جبکہ حسن روحانی کو سابق صدر محمد خاتمی سمیت اعتدال پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔