.

روس نے شام میں امریکی بم باری کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شام کے مشرق میں اردن کی سرحد کے نزدیک امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی بم باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے " ناقابلِ قبول" اور شام کی خود مختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی RIANovosti کے مطابق خارجہ امور کے نائب وزیر گینادی گیتلوف نے جمعے کے روز کہا کہ " شام میں جارحیت میں اضافہ کرنے والی کوئی بھی عسکری کارروائی سیاسی عمل پر اثرا نداز ہوگی۔ بالخصوص جب کہ یہ کارروائی شام کی مسلح افواج کے خلاف ہو"۔

جنیوا میں گفتگو کرتے ہوئے گیتلوف کا کہنا تھا کہ مذکورہ حملوں نے شام میں شہریوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ بم باری میں شامی حکومت کے ہمنوا جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جب کہ بشار حکومت کا کہنا ہے کہ کارروائی میں اس کی افواج کے چیک پوائنٹ پر ضرب لگائی گئی۔

اس سے قبل شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کے روز امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے شام اور اردن کی مشترکہ سرحد کے نزدیک شامی فوج کے ایک ٹھکانے کو حملے کا نشانہ بنایا۔ جمعرات کی شام ہونے والی کارروائی میں کئی افراد ہلاک ہو گئے اور مادی نقصان بھی پہنچا۔

یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے جمعرات کی شب ان حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک شام کی جنگ میں اپنے کردار کو ہر گز نہیں بڑھائے گا تاہم وہ اپنی افواج کا دفاع کرے گا۔