مقبوضہ کشمیر : حزب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت پر بھارت مخالف مظاہرے

ریاستی حکام نے ایک ماہ کے بعد دوبارہ انٹرنیٹ سروس بند کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر میں حریت پسند گروپ حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر اور ان کے ساتھی کی شہادت کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا ہے اور بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک اور کشمیری جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب المجاہدین کا کمانڈر سبزار احمد بھٹ اور اس کا ایک ساتھی ریاستی دارالحکومت سری نگر سے چالیس کلومیٹر جنوب میں واقع علاقے ترال میں ایک کارروائی میں مارے گئے ہیں۔ بھارتی فورسز نے ان حریت پسندوں کے وہاں چھپے ہونے کی خفیہ اطلاع کے بعد چھاپا مار کارروائی کی تھی اور وہاں جھڑپ کے بعد فوجیوں کو دو جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں ۔

بھارتی فورسز کی اس کارروائی کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے کے سیکڑوں مکینوں نے اکٹھے ہو کر سخت احتجاج شروع کردیا تھا۔ اس دوران میں مظاہرین نے بھارتی فورسز کی جانب پتھراؤ کیا اور ان کے درمیان اس علاقے میں مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شاٹ گن سے پیلٹس فائر کی ہیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ترال میں مسلح جھڑپ کی جگہ کے نزدیک بھارتی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی ہے جس سے ایک نوجوان جا ں بحق ہوگیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔علاقے میں پولیس کے سربراہ ایس پی وید نے کہا ہے کہ یہ نوجوان فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا ہے۔

حزب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت کی اطلاع ملنے کے بعد مقبوضہ وادی کے مختلف شہروں اور قصبوں میں طلبہ سمیت ہزاروں افراد نے بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں ۔انھوں نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں سخت نعرے بازی کی۔

اس موقع پر ریاست کے مرکزی شہر سری نگر اور دوسرے شہروں اور قصبوں میں تاجروں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ہے اور تمام کاروباری مراکز اور دکانیں بند رکھی ہیں۔ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ احتجاجی ریلیوں کے دوران میں کم سے کم پچاس مقامات پر مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

قبل ازیں ہفتے کے روز بھارتی فوجیوں نے آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان عارضی حد فاصل کنٹرول لائن کے نزدیک چھے مشتبہ حریت پسندوں کو ایک جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک مسلح گروپ نے پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر سے بھارت کے زیر انتظام ریاست کشمیر کے مغربی سرحدی علاقے رام پور میں دراندازی کی تھی اور اس کے بعد ان کی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ شروع ہوگئی تھی۔ بھارتی فوج نے جمعہ کو بھی اسی علاقے میں دو حریت پسندوں کو ایک جھڑپ میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس کے ان بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

دریں اثناء ریاستی حکام نے مقبوضہ وادی میں دوبارہ انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے۔ انھوں نے ایک روز قبل ہی ایک ماہ کے بعد سماجی روابط کی بائیس ویب گاہوں پر عاید پابندی ختم کی تھی۔ریاستی حکام نے 26 اپریل کو بھارتی فورسز کے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ انسانی سوز سلوک کی ویڈیو ز منظر عام پر آنے کے بعد فیس بُک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کی بائیس سائٹس پر پابندی لگادی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں