شام میں جنگ بندی کی مانیٹرنگ کے لیے فوج بھیجنے کو تیار ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران نے کہا ہے کہ وہ شام میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی فوج بھیجنے کو تیار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک روس اور ترکی کے تعاون سے شام میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کو عملی شکل دینے اور جنگ بندی کی مانیٹرنگ کے لیے اپنی فوج شام بھیجنے کوتیار ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے مزید فورس شام بھیجنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہےجب پہلے ہی ایرانی پاسداران انقلاب کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکار اور ان کی معاونت میں لبنانی، افغان، پاکستانی اور عراقی شیعہ ملیشیاؤں کے ہزاروں جنگجو گذشتہ چھ سال سے شام میں صدر اسد کے دفاع کے لیے موجود ہیں۔

بہرام قاسمی کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ بندی کے ضامن تین ملکوں کے درمیان آستانہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی بات چیت بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شام میں دائمی اور منظم جنگ بندی چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے روس، ترکی اور ایرانی حکام کے باہمی رابطے بدستور برقرار ہیں۔ تینوں ملک شام میں خون خرابہ روکنے اور امن وامان کے قیام کے لیے سنجیدگی سے کوششیں کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کے لیے ہماری فوج کی ضرورت ہے توہم اپنی فوج شام بھجینے کو تیار ہیں۔ معاہدے کے تحت ترکی اور روس بھی اپنی افواج تعینات کریں گے۔

شام میں جنگ بندی کے حوالے سے ایرانی موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی صدر ولادی میر پوتن نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ دوسری جانب صدر ایردوآن نے ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی شام میں کشیدگی کم کرنے پر ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ تینوں ممالک چوتھے آستانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

ماسکو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر پوتن اور ایران کے صدر حسن روحانی شام میں دیر پا قیام امن کے لیے مشترکہ سفارتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ملکوں نے شام میں امن کے قیام کے لیے آستانا میں ہونے والے سابقہ مذاکرات میں طے پائے معاہدوں کو عملی شکل دینے کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں