پوتن کا روسی شدت پسندوں کی دہشت گردوں میں شمولیت کا اعتراف

غیرملکی مداخلت نے شام میں حالات مزید خراب کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اعتراف کیا ہے کہ روس سے تعلق رکھنے والے بہت سے جنگجو شام میں دہشت گرد گروپوں کی صفوں میں شامل ہیں۔

سینٹ پیٹرس برگ میں اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ اگر غیرملکی مداخلت نہ ہوتی تو شام میں حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں اعتدال پسند اپوزیشن کو دہشت گردوں سے الگ کرنا بہت آسان ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے خلاف شامی صدر بشارالاسد پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ شام میں حکومتی فورسز کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔

قبل ازیں صدر پوتن نے شام کی تقسیم کے خدشے کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی آنے کو سیاسی بات چیت کے نمونے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ صدر پوتن نےاپنے بیان میں شام کی وحدت پر زور دیا اور کہا کہ روس شام کو تقسیم کرنے کی کسی تجویز کی حمایت نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ شامی مسلح اپوزیشن اور اسد رجیم کے درمیان مذاکرات سے انکار نہیں۔ جن علاقوں میں کشیدگی کم ہوئی ہے۔ ان کی مثال سامنے رکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ ماسکو اور ترکی شام کے معاملے میں قریبا ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ اگر روس اور ترکی کے موقف میں ہم آہنگی نہ ہوتی تو شام میں جنگ بندی کا قیام ممکن نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں