ترک کابینہ میں رد وبدل ،چار نئے نائب وزرائے اعظم شامل،وزیر خارجہ برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے اپنی کابینہ میں رد وبدل کا اعلان کیا ہے اور انھوں نے اپنے پانچ میں سے چار نائب وزرائے اعظم کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے،چھے نئے چہرے متعارف کرائے ہیں اور خارجہ ، داخلہ ، معیشت اور توانائی کے وزراء کو ان کے مناصب پر برقرار رکھا ہے۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے بدھ کے روز صدر رجب طیب ایردوآن سے غیر علانیہ ملاقات کی ہے اور اس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں اپنی نئی کابینہ کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’کابینہ میں شامل اور سبکدوش کیے جانے والے ہمارے تمام دوست غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں ۔یہ حکومت کو تازہ دم کرنے کی ایک دوڑ ہے‘‘۔

وزیراعظم نے جن چار نائب وزرائے اعظم کو ہٹایا ہے ،ان میں قوم پرست تحریک پارٹی کو خیرباد کہہ کر حکمراں جماعت آق میں شامل ہونے والے نائب وزیراعظم طغرل ترک بھی شامل ہیں۔ان کے ساتھ شامی مہاجرین کی آبادکاری اور شام سے متعلق امور کے ذمے دار نائب وزیراعظم ویسی کیانک کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

دونائب وزراء اعظم نورالدین چانکلی اور نعمان قرطلمش کو بالترتیب وزیر دفاع اور ثقافت اور سیاحت کی وزارتوں کے قلم دان سونپے گئے ہیں۔ نعمان قرطلمش حکومت کے ترجمان بھی تھے اور ان سے یہ ذمے داری واپس لے لی گئی ہے۔

معیشت سے متعلق امور کے ذمے دار نائب وزیراعظم محمد شمشیک کو نئی کابینہ میں ان کے عہدے پر برقرار رکھا گیا ہے۔بن علی یلدرم نے وزیر انصاف بکیر بزداغ اور وزیر صحت رجب اقداغ کو ترقی دے کر نائب وزیراعظم بنا دیا ہے۔

ترک وزیراعظم نے توقعات کے برعکس اپنی خارجہ ٹیم میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی ہے اور یورپی یونین کے امور کے وزیر عمر چیلک اور وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھا ہے۔پہلے یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ صدر رجب طیب ایردوآن کے خارجہ امور کے مشیر اعلیٰ ابراہیم کالین کو کابینہ میں خارجہ پالیسی سے متعلق اہم ذمے داری سونپی جاسکتی ہے۔

وزیر معیشت نہاد زے بیگچی ، وزیر ترقی لطفی ایلوان ، وزیر خزانہ ناجی عغبل اور وزیر توانائی اور صدر ایردوآن کے داماد بیرت البیرق کو ان کے مناصب پر برقرار رکھا گیا ہے۔ وزیر داخلہ سلیمان سوئلو فتح اللہ گولن دہشت گرد تنظیم ( فیٹو) اور کرد باغیوں ( پی کے کے) کے خلاف شبانہ روز جدوجہد کے نتیجے میں اپنی وزارت بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔

ترک کابینہ میں شامل کیے جانے والے چھے نئے وزراء اور ان کے محکمے یہ ہیں: نائب وزیراعظم حقان شاوش اوغلو ،وزیرانصاف عبدالحمید گل ، وزیر محنت ژولید سرائر اوغلو ،وزیر برائے امور نوجواناں اور کھیل عثمان اشکین بک ، وزیر برائے خوراک وزراعت الشرف فقی بابا اور وزیر صحت احمد دیمیر کن ۔

عدنہ سے تعلق رکھنے والی رکن اسمبلی ژولید سرائے اوغلو کی وزیر محنت کی حیثیت سے کابینہ میں شمولیت سے اب خواتین وزراء کی تعداد دو ہوگئی ہے۔خاندانی امور کی وزیر فاطمہ بتول سیان کیا کو نئی کابینہ میں بھی یہی وزارت سونپی گئی ہیں۔واضح رہے کہ فاطمہ بتول وہی ترک وزیر ہیں جنھیں ڈچ حکومت نے 16 اپریل کو ترکی میں آئینی ریفرینڈم کی مہم کے سلسلے میں ریلی میں شرکت سے قبل ہی نیدر لینڈز سے بے دخل کر دیا تھا۔ وہ روٹر ڈیم میں مقیم ترک کمیونٹی کی ایک ریلی سے خطاب کے لیے گئی تھیں لیکن انھوں اس سے پہلے ہی حراست میں لے کر واپس بھیج دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں