ایرانی صدر کو دوسری مدّتِ صدارت میں بڑے چیلنجوں کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی صدر حسن روحانی کو اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز کے ساتھ ہی بڑے اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ وہ شخصی آزادی کے میدان میں اصلاحات کرنے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی سے متعلق انتخابی مہم میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے علاوہ روحانی اپنے قول کے مطابق مغرب کے ساتھ کشادگی کا دروازہ کھولنے میں بھی ناکام رہے۔ العربیہ نیوز چینل کے مطابق مبصرین نے ایرانی صدر کی دوسری مدت صدارت کو "آندھی" قرار دیا ہے۔

اندرونی طور پر اقتصادی ، سماجی اور سیاسی بحرانات کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کے طوفان کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ بھی ڈھے جانے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس دوران روحانی پر اُن کے حامیوں کی جانب سے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کرنے اور جلد اقتصادی اصلاحات کرنے کے مطالبات کا بھی بوجھ ہے۔

ایرانی اندرونی بحرانات اقتصادی صورت حال تک محدود نہیں۔ روحانی نے انتخابی مہم کے دوران شخصی آزادی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور مذہبی اقلیتوں اور قومیتوں کو ان کے حقوق دینے سے متعلق وعدے بھی کیے تھے۔ سیاسی شخصیات کے نزدیک پاسداران انقلاب اور سخت گیر حلقوں کے رسوخ کے بیچ ان وعدوں پر عمل درامد ممکن نہیں۔

بیرونی محاذ کے حوالے سے ایرانی صدر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ خطے کے ممالک اور مغربی دنیا کے ساتھ مذاکرات اور کشادگی کے راستے پر گامزن رہیں گے تاہم اب سیاست دانوں کا یہ استفسار ہے کہ ان وعدوں اور ملک کے سپریم رہ کے بیانات میں مطابقت کس طرح پیدا کی جائے گی جب کہ علی خامنہ ای مغرب کو ایران کا دشمن شمار کرتے ہیں۔

ایرانی نیوکلیئر معاہدہ حسن روحانی کی واحد کامیابی ہے مگر تہران کی جانب سے میزائل پروگرام سے متعلق شقوں کی عدم پاسداری ، ایرانی فوجی مداخلت جاری رہنے، خطے میں دہشت گردی کی سپورٹ اور ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد اب اس معاہدے کا مستقبل بھی مخدوش نظر آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں