.

عراق کے کُرد ریاست کا قیام نہیں جانتے، بھوک کا شکار ہوں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ عراق کے کُرد یہ نہیں جانتے کہ ریاست کس طرح قائم کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب ٹرکوں کو شمالی عراق کی جانب جانے سے روکا جائے گا تو یہ لوگ بھوک کا شکار ہو جائیں گے۔ ایردوآن نے ان خیالات کا اظہار عراقی کردستان میں علاحدگی سے متعلق ہونے والے ریفرنڈم کے جواب میں کیا۔

منگل کے روز ترکی ٹی وی پر انقرہ سے براہ راست بیان میں ایردوآن نے کردستان کے صدر کو غدّار قرار دیتے ہوئے کہا کہ "آخری لمحے تک ہمیں توقع نہیں تھی کہ بارزانی ریفرنڈم کرانے کی غلطی کا ارتکاب کریں گے مگر لگتا یہ ہے کہ ہم غلطی پر تھے"۔
کہا جا رہا ہے کہ پیر کے روز ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے ایردوآن کا اب تک کا یہ سخت ترین بیان ہے۔

ترکی کے صدر نے مزید کہا کہ "اگر بارزانی اور کردستان کی حکومت نے اس غلطی سے جلد از جلد رجوع نہ کیا تو پھر تاریخی طور پر یہ عار ان کے ساتھ ملزوم ہو جائے گا کہ انہوں نے خطے کو ایک نسلی اور فرقہ وارانہ جنگ کی طرف گھسیٹا"۔ انہوں نے شمالی عراق سے بیرونی دنیا کو تیل منتقل کرنے والی پائپ لائنوں کی بندش کی براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ "جب ترکی تیل کا راستہ روک دے گا تو کھیل ختم ہو جائے گا"۔

ترک صدر نے باور کرایا کہ کردستان کا ریفرنڈم غیر قانونی ہے اور ہم اس کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے اور شمالی عراق کی علاحدگی کے دُور رس اثرات کی ذمے داری کردستان کے صدر مسعود بارزانی پر عائد ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "خطے کی پیش رفت پر ترکی خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا"۔

ایردوآن نے کہا کہ "میں عراق اور شام میں اپنے بھائیوں کو دعوت دیتا ہوں آئیے ہم ایک ہاتھ بن جائیں"۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بحرانات کو مصالحت ، مشاورت اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی واضح کیا کہ عسکری کارروائی سمیت ان کے سامنے تمام اختیارات موجود ہیں۔

ترک صدر کے مطابق اسرائیل کے سوا جس نے ریفرنڈم کی حمایت کی ہے.. کوئی ایسا ملک نہیں جو کردوں کی خود مختاری کو تسلیم کرے گا۔ ایردوآن نے بارزانی کو خبردار کیا کہ عبرانی ریاست کی سپورٹ ہر گز کافی نہیں ہو گی۔