عراقی پارلیمان کا بارزانی کے ٹرائل اور کرکوک کی واپسی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شمال میں واقع صوبہ کردستان کی قیادت کی طرف سے خود مختاری کے لیے کرائے گئے عوامی ریفرنڈم کے بعد اربیل اور بغداد کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی اثناء میں عراقی پارلیمان نے کردستان کے زیر کنٹرول تیل کی دولت سے مالا مال شہر کرکوک واپس لینے اور وزیراعلیٰ کردستان مسعود بارزانی کے خلاف ملک توڑنے کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدھ کو عراقی پارلیمنٹ میں کردستان میں کرائے گئے آزادی ریفرنڈم پر گرما گرم بحث کی گئی۔ پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مختلف ملکوں کے سفیروں بات کرے اور کردستان میں موجود تمام تمام نمائندہ دفاتر اور قونصل خانے بند کیے جائیں۔

عراقی پارلیمانی نے مطالبہ کیا کہ تیل کی وسائل کی وجہ سے مشہور کرکوک شہر کو کردستان سے واپس لیا جائے اور اسے وفاق میں شامل کیا جائے۔

گذشتہ روز عراقی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی ایک قرارداد میں حکومت سے تیرہ مطالبات کیے گئے جن میں کرکوک اور شمالی عراق میں موجود تیل کی تمام تنصیبات واپس لینے اور ملک میں تیل کے تمام ذخائر اور وسائل کو بغداد سرکار کے قبضے میں رکھنے پر زور دیا گیا۔

پارلیمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت سیکیورٹی اداروں کو وبارہ کرکوک اور دیگر متنازع علاقوں میں داخل کرے۔ کردستان کی تمام بیرونی بری راہ داریوں کو بند اور فضائی سروس روکی جائے ۔ نیز کردستان میں ہونے والے آزادی ریفرنڈم پر کے نتائج پر مسترد کرتے ہوئے ان پر کسی بھی طرف عمل درآمد کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے۔

قبل ازیں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ کردستان پر فوجی طاقت نہیں بلکہ آئینی اور دستوری طاقت سے احکامات نافذ کریں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر کرد قیادت پر زور دیا کہ وہ آزادی کے لیے کرائے گئے نام نہاد ریفرنڈم فوری طور پر منسوخ کردے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں