'ہٹلر’ کی حمایت پر ایرانی معلم ملازمت سے فارغ
امریکی ریاست نیوجرسی میں قائم ’ٹیکنیکل انسٹیٹیو‘ سے وابستہ سوشل سائنسز کے ایک ایرانی استاد جیسون رضا جرجانی کو نسل پرستانہ خیالات رکھنے جرمنی کے نازیوں اور جرمن ڈکٹیٹیر ایڈولف ہٹلر کی حمایت کی پاداش میں ادارے سے نکال دیا گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نسل پرستی کے خلاف سرگرم ایک طالب علم پیٹرک ہرمانسون نے جیسون جرجانی کی ملک میں مختلف تقریبات میں شرکت اور نازیوں اور ہٹلر کی حمایت میں ان کی تقاریر شائع کی تھی جس کے بعد اسے ادارے سے نکال دیا گیا ہے۔
ہرمانسن نے اپنی دستاویزات میں نازیوں کے حامی ایرانی معلم کی سرگرمیوں کی تفصیلات جمع کی تھیں۔ ان میں رضا جرجانی کی تقاریر کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی شامل ہے۔
امریکی طالب علم نے یہ تمام مواد مختلف ویب سائیٹس پر شائع کرایا۔ جیسون جرجانی کی مختلف تقریبات میں شرکت کے دوران کی گئی تقاریر میں انہیں کھلے الفاظ میں ہٹلر کی تعریف کرتے دیکھا اور سنا گیا۔ اس کے علاوہ وہ تمام مسلمانوں کو ایک ہی جگہ جمع کرنے کی تجویز بھی دے چکا ہے جس طرح ہٹلر نے نازیوں کے علاحدہ کیمپ قائم کیے اور انہیں جنگ کی تربیت فراہم کی تھی۔
خیال رہے کہ ایران میں ہٹلر کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایرانی ٹیچر کا کہنا ہے کہ نازی افکار اور ہٹلر کی حمایت دنیا میں تیزی کے ساتھ فروغ پا رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعض یورپی ممالک کی کرنسیوں پر ہٹلر کی تصویر شائع کی گئی ہے۔
’نیویارک ٹائمز’ کے مطابق جرجانی امریکا میں نازیوں کے لیے کام کرنے والا ایک سرکردہ ایرانی ہے۔ نیوجرسی کے ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ نے اس کی نازیوں کی حمایت کی معلومات سامنے آنے کے فوری بعد ملازمت سے نکال دیا ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب امریکا میں کسی ایرانی کی طرف سے نازیوں اور ہٹلر کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا گیا ہو۔ امریکا اور مغربی ممالک میں ایران لابی اور اس کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہٹلر کی حمایت میں سرگرم پائی گئی ہے۔
-
ایرانی میزائل تجربے نے جوہری معاہدہ ختم کر دیا ہے: ٹرمپ
تہران، شمالی کوریا کے ساتھ تعاون کررہا ہے
بين الاقوامى -
ایرانی ٹی وی کی جانب سے ٹرمپ کے خطاب کے ترجمے میں تحریف
ایران میں سرکاری ٹی وی "خبر" نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ...
بين الاقوامى -
امریکی صدر کی ایران پر کڑی تنقید، شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی
ایرانی حکومت اقتصادی طور پر بدحال ایک بھوت ریاست ہے جس کی سب سے بڑی برآمد تشدد ہے
بين الاقوامى