.

مصر کو 98ء کے فٹبال عالمی کپ سے محروم کرنے والا لائبیریا کا صدر ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل کے روز لائبیریا میں منعقد صدارتی انتخابات میں 20 امیدواروں کے درمیان کامیاب ہونے والی شخصیت کا نام "جورج ویاہ" ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ قومی ٹیم کا وہ ہی سابق فٹبالر ہے جس نے 1998 کے عالمی کپ کے کوالیفائنگ راونڈ میں مصر کے خلاف گول کر کے اسے فرانس میں ہونے والے میگا ایونٹ میں جانے سے روک دیا تھا۔

اس کے علاوہ جورج کے سَر فٹبال کی تاریخ کا ایک خوب صورت ترین گول کرنے کا بھی سہرا ہے۔ اس گول کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم کے گول کیپر سے بال حاصل کرنے کے بعد مخالف ٹیم کی دفاعی لائن کو پاش پاش کرتے ہوئے اس کے گول پوسٹ کے قریب پہنچا اور وہاں سے بال جال میں پھینک دی۔

صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق سابق فٹبالر جورج ویاہ نے 12 لاکھ رائے دہندگان میں 39.2% ووٹ حاصل کیے۔ وہ آئندہ ماہ انتخابات کے اگلے مرحلے میں موجودہ نائب صدر کے ساتھ شریک ہوں گے۔ مختلف سروے رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ ویاہ ملک کے صدر بن جائیں گے۔ تقریبا 40 لاکھ کی آبادی والے ملک لائبیریا میں 1989 میں خوف ناک خانہ جنگی دیکھنے میں آئی جو 7 برس تک جاری رہی۔ اس دوران 2.5 لاکھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں جورج ویاہ کے والدین بھی شامل تھے۔

اپریل 1997 میں گھانا کے دارالحکومت اکرا میں مصر کا فیصلہ کن مقابلہ لائبیریا کی ٹیم سے ہوا جس کے بارے میں مصری ٹیم مطمئن تھی کہ ان کے حریف کو مبصرین نے کمزور ٹیم قرار دیا ہے۔ البتہ جورج ویاہ نے میچ 29 ویں منٹ میں مصر کی دفاعی لائن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مصری گول کیپر عصام الحضری کو چکمہ دے کر بال جال کے اندر پہنچا دی اور ساتھ ہی مصر کی فرانس میں 1998 کا عالمی کپ کھیلنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

عصام الحضری جن کی عمر اس وقت 44 برس ہے وہ آئندہ سال روس میں ہونے والے فٹبال عالمی کپ میں اپنی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔ اس طرح وہ 1930 کے بعد سے اب تک کسی بھی فٹبال عالمی کپ کے مقابلے میں شریک ہونے والے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی ہوں گے۔ مصر کی ٹیم گزشتہ اتوار کو کوالیفائنگ راؤنڈ کے میچ میں کانگو کو 2-1 سے شکست دے کر روس میں 2018 میں ہونے والے عالمی کپ میں پہنچ گئی۔

جورج ویاہ شادہ شدہ اور تین بچوں کے باپ ہیں۔ 1995 میں وہ عالمی سطح پر بہترین کھلاڑی اور یورپ میں بہترین کھلاڑی ہونے کے اعزازات اپنے نام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے افریقا میں تین مرتبہ بہترین کھلاڑی کی حیثیت سے سونے کی فٹبال حاصل کی۔ انیس سو نوّے کی دہائی کے اواخر میں جورج ویاہ نے جنوبی فرانس میں اسلام قبول کر لیا۔ تاہم 2004 میں وہ پھر سے اسلام سے خارج ہو گئے تاہم انہوں نے دوبارہ مسیحیت قبول نہیں اور بنا مذہب کے معلّق ہیں۔