صنعاء میں مسلح حوثیوں اور علی صالح کے حامیوں میں جھڑپیں
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں اور حوثی ملیشیا کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان دو مختلف مقامات پر لڑائی چھڑ گئی ہے۔
العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ صنعا ء کے جنوب میں واقع مسجد الصالح میں علی صالح کے حامیوں اور حوثیوں کے درمیان کیمروں کی تنصیب کے تنازع پر جھڑپیں شروع ہوئی تھیں اور یہ دارالحکومت کے دوسرے علاقوں تک بھی پھیل گئی ہیں ۔نمائندے نے مزید بتایا ہے کہ یہ جھڑپیں کئی گھنٹے تک جاری ر ہیں اور ان میں طرفین کے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔
. باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلح محافظوں کو مسجد الصالح کے میناروں پر نگرانی کے کیمرے نصب کرنے سے روک دیا گیا تھا جس کے بعد حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ وہ علاقے کی نگرانی کے لیے مسجد کے میناروں پر کیمرے نصب کرنا چاہتے تھے۔
دریں اثناء علی صالح کے وفادار ری پبلکن گارڈ کی حوثی ملیشیا کے ایک اور مسلح گروپ سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ مسلح حوثیوں نے معزول صدر کے بھائی بریگیڈیئر طارق محمد عبداللہ صالح کے گھر پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی۔علاقے کے مکینوں نے بتایا ہے کہ علی صالح کے بھائی کے مکان کے پاس پڑوس کے علاقے میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور علاقے کی شاہراہیں بند کردی گئی ہیں جبکہ مصالحت کار صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے فریقین سے بات چیت کررہے ہیں۔