ایرانی اپوزیشن کی جانب سے تہران کی شرم ناک کارستانیاں بے نقاب
امریکا میں ایرانی اپوزیشن نے ایک کتاب جاری کی ہے جس میں 1988 میں ایرانی نظام کے ہاتھوں حزب اختلاف کے ہزاروں کارکنان کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ جمعے کے روز واشنگٹن میں کتاب کے پیش کیے جانے کے موقع پر انکشاف کیا گیا کہ ایران میں عورتوں ، بچوں اور حزب اختلاف کے ارکان کو موت کی نیند سلانے کی شکل میں یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایرانی اپوزیشن نے 1988 کے مذکورہ قتل عام پر ایرانی نظام کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔
دوسری جانب سابق امریکی سفیر ایڈم ایریلی نے اس قتل عام کے ذمے داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "کتاب کے مطابق اس جرم کے مرتکب افراد میں سے بہت سی شخصیات اس وقت ایرانی حکومت میں اعلی منصبوں پر کام کر رہی ہیں"۔
ایڈم ایریلی نے باور کرایا کہ اس قتل عام کے ذمے داران کے احتساب کے لیے روس سے متعلق امریکی قانون Magnitsky سے ملتا جلتا ایک قانون وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں بعض دیگر اہل کاروں نے انکشاف کیا کہ وہ ایران میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ کمیٹی ارجنٹائن سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی طرز پر ہو گی جس نے عسکری ٹولے کے جرائم کا انکشاف کیا تھا۔
واشنگٹن میں کتاب کی نمائش کے دوران ایرانی اپوزیشن کے حامیوں نے ایرانی کارستانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بعض وسیع تر منصوبوں کی تجویز پیش کی۔ ان میں کسی قانون یا وزارت خزانہ کے فیصلوں کے تحت پابندیاں عائد کرنا ، جوہری معاہدے کے تحت ایران کو کسی بھی قسم کی ادائیگی روک دینا اور آگاہی مہم شروع کرنا جو ایران کے سابق اور حالیہ نظام کے تصرفات کو بے نقاب کرے۔
تقریب میں شریک ایک شخصیت نے سابق امریکی انتظامیہ کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا کیوں کہ ایران میں انسانی حقوق سے متعلق اس کی رپورٹ میں خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی گئی۔
-
حیران کُن موقف : ایران نے تھائی مرد کوچ کو حجاب کا پابند کر دیا
ایرانی دارالحکومت تہران میں حکام نے "کبڈّی" کے ایک کوچ کو حجاب (سر پر ...
مشرق وسطی -
ایران نے بلغارین وزیراعظم کا طیارہ فضائی حدود سے گذرنے سے روک دیا
تہران نے بلغارین وزیراعظم کے طیارے کا راستہ تبدیلی کو تکنیکی وجہ قرار دیا
بين الاقوامى -
یورپ پر لازم ہے کہ ایران کے بدخواہ برتاؤ پر روک لگائے : امریکا
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے یورپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف پالیسی ...
بين الاقوامى