یمنی شہریوں نے حوثی جارحیت کے خلاف بغاوت برپا کردی : علی صالح
یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے اپنے اتحادی حوثی شیعہ باغیوں کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف شہریوں نے بغاوت برپاکردی ہے۔
انھوں نے ہفتے کے روز ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے ایک براہ راست بیان میں دارالحکومت صنعاء میں گذشتہ چار روز سے اپنی وفادار فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ اس لڑائی میں اب تک اسّی افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’’ لوگوں نے حوثی جارحیت کے خلاف بغاوت برپا کردی ہے کیونکہ حوثیوں نے یمنی شہریوں کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے‘‘۔انھوں نے یمنی سرزمین پر فوجی حکمرانی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔
علی صالح کا کہنا تھا کہ یمنی فورسز حوثی ملیشیا کے احکامات قبول کرنے سے انکار کردیں ۔ انھوں نے یمن کے پڑوسی ممالک کے ساتھ از سر نو تعلقات شروع کرنے کا بھی عندیہ دیا ہےاور یمن میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قبل ازیں علی صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے حوثیوں پر جنگ بندی کا احترام نہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ حوثی ملک کو خانہ جنگی کی دلدل میں دھکیلنے کی ذمے داری قبول کریں۔
اس نے قبائلی جنگجوؤں سمیت اپنے حامیوں پر زوردیا ہے کہ وہ اپنا دفاع خود کریں اور اپنے ملک ،انقلاب اور جمہوریہ کو بچانے کے لیے کردار ادا کریں۔کانگریس نے فوج اور سکیورٹی فورسز سے بھی کہا ہے کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار رہیں۔
حوثیوں کے انصار اللہ گروپ نے ٹویٹر اکا ؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں علی صالح کے حامیوں کے ساتھ جھڑپوں کو افسوس ناک قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے ساتھ رابطے سے ہورہی ہیں۔
معزول صدر علی صالح کے وفاداروں اور حوثی ملیشیا کے درمیان بدھ کو صنعا ء کے جنوب میں واقع مسجد الصالح میں کیمروں کی تنصیب کے تنازع پر لڑائی شروع ہوئی تھی اور یہ دارالحکومت کے دوسرے علاقوں تک بھی پھیل گئی تھی ۔ان جھڑپوں کے بعد فریقین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر سنگین الزامات عاید کررہے ہیں۔