سوڈانی صدر کو گرفتار کیوں نہیں کیا تھا ؟ آئی سی سی کا ارد ن سے سوال
ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کو مارچ میں عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے موقع پر گرفتار نہ کرنے کی پاداش میں اردان کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجنے کا ا علان کیا ہے۔
آئی سی سی نے 2009 اور 2010 میں صدر عمر حسن البشیر کے خلاف سوڈان کے صوبے دارفور میں جنگی جرائم ، انسانیت مخالف جرائم اور نسل کشی کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔اردن آئی سی سی کا رکن ملک ہے اور وہ اس تعلق سے صدر عمر البشیر کو گرفتار کرنے کا پابند تھا۔
سوڈان آئی سی سی کا رکن نہیں ہے ۔اس لیے یہ عدالت اس ملک میں از خود جنگی جرائم کی تحقیقات نہیں کرسکتی ہے۔
یادرہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مارچ 2005 میں اس بین الاقوامی عدالت کو سوڈان میں انسانیت مخالف جرائم ، نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کا معاملہ بھیجا تھا۔سلامتی کونسل کو آئی سی سی کے ساتھ تعاون میں ناکام رہنے والے ممالک پر پابندیاں عاید کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اردن سے قبل 2015 میں جنوبی افریقا نے بھی سوڈانی صدر کو ان کے دورے کے موقع پر گرفتار نہیں کیا تھا اور اس کی حکومت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر صدر بشیر کو گرفتار کیا جاتا تو یہ اقدام انھیں سربراہ ریاست کی حیثیت سے حاصل استثنا کی خلاف ورزی ہوتا ۔ اس دلیل کو جنوبی افریقا کی عدالتوں اور آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا۔
مگر اس کے باوجود آئی سی سی نے جنوبی افریقا کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو کوئی شکایت نہیں کی تھی۔کینیا اور جنوبی افریقا افریقی ممالک کے خلاف آئی سی سی کے مبینہ متعصبانہ طرز عمل کے خلاف اس عالمی عدالت کو خیر باد کہنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
واضح رہے کہ سوڈان نے 2009ء میں آئی سی سی کی جانب سے صدر عمر حسن البشیر کے خلاف دارفور میں انسانیت مخالف جرائم کے الزام میں وارنٹ گرفتاری کے اجراء کے بعد متعدد غیرملکی امدادی ایجنسیوں کو بے دخل کردیا تھا۔سوڈان نے ان تنظیموں پر الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے صدر بشر کے خلاف فرد جرم کی تیاری میں آئی سی سی کی معاونت کی تھی۔u