.

اقوام متحدہ کی نئی پابندیاں جنگی اقدام کے مترادف ہیں : شمالی کوریا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا نے اتوار کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پیونگ یانگ کے خلاف حالیہ پابندیاں جنگ کے مترادف ہیں اور یہ ملک کے خلاف مکمل اقتصادی محاصرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے نشر ہونے والے بیان میں وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ "ہم اقوام متحدہ کی جانب سے نئی پابندیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور انہیں اپنی خود مختاری پر کھلا حملہ اور جنگی اقدام شمار کرتے ہیں جو جزیرہ نما کوریا اور خطّے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا"۔

وزارت خارجہ کے مطابق "شمالی کوریا کی ریاست کی جانب سے نیوکلیئر طاقت بننے سے متعلق تاریخی کامیابی کے سبب امریکا شدید خوف کا شکار ہے، اسی وجہ سے وہ ہمارے خلاف زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کرنے کے جنون میں مبتلا ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم اپنے دفاع کے لیے جوہری میدان میں مزاحمت کو اور مضبوط بنائیں گے۔ اس کا مقصد بنیادی طور پر امریکا کی جانب سے جوہری دھمکیوں ، بلیک میلنگ اور دشمنانہ کارروائیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس واسطے امریکا کے مقابل عملی قوت کا توازن پیدا کیا جائے گا"۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل نے جمعے کے روز شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان کے مطابق شمالی کوریا کے جوہری میزائل پروگرام کے لیے پیونگ یانگ کی تیل کی درآمدات پر روک لگانا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے متقفہ طور پر پابندیوں کی قرارداد کو مںظور کر لیا۔

واشنگٹن نے حالیہ قرارداد چین کے ساتھ مذاکرات کے بعد پیش کی جو شمالی کوریا کا واحد حلیف اور اس کے لیے تیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ قرارداد منظور ہونے کے فوری بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ "دنیا امن چاہتی ہے موت نہیں"۔

ادھر اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر نکی ہیلی نے شمالی کوریا کو "جدید دنیا میں بدی کی سب سے بڑی مثال" قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ قرارداد پیونگ یانگ کے لیے واضح پیغام ہے کہ مزید خلاف ورزیوں پر اسے مزید پابندیوں اور علاحدگی کا سامنا کرنا پڑے گا"۔

اقوام متحدہ کی پابندیاں شمالی کوریا کے لیے تیل کی 75 فی صد مصنوعات پر پابندی عائد کرتی ہیں۔