سوڈانی جزیرہ "سواکن" جس کے انتظامی امور اب ترکی سنبھالے گا
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے سوڈان کے مشرق میں بحر احمر کے ساحل پر واقع جزیرے "سواکن" کا دورہ کیا۔ دورے کے بعد ایردوآن نے اپنے بیان میں بتایا کہ سوڈانی صدر عمر البشیر نے جزیرہ سواکن کے انتظامی امور چلانے کے لیے اسے غیر معینہ مدت کے لیے ترکی کو دے دیا ہے۔
سلطنتِ عثمانیہ کے خلیفہ سلیم اوّل نے سولہویں صدی عیسوی میں اس پر حملہ کیا تھا۔
جزیرہ سواکن سوڈان کے مشرق میں بحر احمر کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 20 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 66 میٹر بلند ہے۔ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم سے اس کا فاصلہ تقریبا 560 کلومیٹر ہے۔
سواکن جزیرہ اس وقت سوڈان میں دوسری بندرگاہ شمار کیا جاتا ہے۔ یہ اپنے گہرے تاریخی پس منظر کے باعث مشہور ہے۔
قرونِ وسطی میں ابن بطوطہ جیسے عرب سیاحوں کے سفرناموں میں سواکن کا نام آیا ہے۔ اس کے نام "سواکن" کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ بنی امیہ کے بہت سے شہزادے عباسی ریاست کی پکڑ سے خوف کے باعث بھاگ کر یہاں آئے تھے۔
سولہویں صدی عیسوی میں عثمانی خلیفہ سلیم اوّل نے جزیرے پر حملہ کیا اور سواکن بحرِ احمر میں عثمانی بحری بیڑے کا مرکز بن گیا۔